جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

ڈیرہ اسماعیل خان: درازندہ میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ، 12 افراد جاں بحق، ریسکیو ایمبولینس پر بھی فائرنگ

ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درازندہ میں امن میلہ پولیس چیک پوسٹ سے بارود بھری گاڑی ٹکرانے سے کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 30 سے زائد زخمی ہو گئے، جبکہ لاشیں منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس پر فائرنگ سے دو اہلکار بھی جان سے گئے۔
پولیس کی گاڑی، علامتی تصویر
علامتی تصویر: Shameel، CC BY-SA 3.0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درازندہ میں ہفتے کے روز امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر خودکش حملے میں کم از کم 12 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ڈان کے مطابق ریجنل پولیس افسر غلام مبشر میکن نے ابتدائی جائزے کی بنیاد پر ہلاکتوں کی تصدیق کی، جن میں نو مرد، دو خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔

پولیس اور ریسکیو 1122 حکام کے مطابق ایک نامعلوم حملہ آور نے بارود سے بھری ٹریکٹر ٹرالی چیک پوسٹ سے ٹکرا دی۔ ضلعی پولیس افسر ضیاء الدین احمد نے اسے خودکش دھماکا قرار دیا۔ دھماکے سے چیک پوسٹ کا بڑا حصہ اور ساتھ واقع ایک مکان مکمل طور پر تباہ ہو گیا، جبکہ دھماکے کے بعد شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

ہلاک شدگان کے بارے میں متضاد اطلاعات

ڈان کی رپورٹ کے مطابق آر پی او نے واضح کیا کہ جاں بحق افراد میں کوئی پولیس یا سکیورٹی اہلکار شامل نہیں، اور مرنے والوں میں کسٹمز کا ایک اہلکار اور عام شہری تھے۔ تاہم جیو نیوز نے آر پی او کے حوالے سے بتایا کہ چھ پولیس اہلکار اور کسٹمز کا ایک اہلکار بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعداد 30 سے 35 کے درمیان بتائی گئی ہے، جن میں سے 25 کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا۔

امن میلہ چیک پوسٹ ڈیرہ اسماعیل خان سے کوئٹہ جانے والی سڑک پر مغل کوٹ اور درازندہ کے قریب واقع ہے اور خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حد کے نزدیک ہے۔ پولیس اسے اس شاہراہ پر نگرانی اور چیکنگ کے لیے استعمال کرتی ہے۔

ایمبولینس پر حملہ

ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق دھماکے کے مقام سے لاشیں منتقل کرنے والی ایمبولینس پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی، جس سے دو ریسکیو اہلکار شریف اللہ اور امتیاز جاں بحق جبکہ انیس زخمی ہو گئے۔ سرکاری ریڈیو پاکستان نے حملے کا الزام فتنہ الخوارج پر عائد کیا، جو اصطلاح ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال کرتی ہے، اور بتایا کہ علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی جاری ہے۔

مذمتی بیانات

صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے حملے کی مذمت کی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے ویڈیو بیان میں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی سے متعلق وفاقی پالیسی میں تبدیلی کا مطالبہ دہرایا، جبکہ گورنر فیصل کریم کنڈی نے اعلیٰ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی۔

واضح رہے کہ 18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز پر حملے میں 23 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں خیبر پختونخوا کے بندوبستی اضلاع میں 54 دہشت گرد حملے ریکارڈ ہوئے، جو جولائی کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہیں۔

ذرائع: ڈان، جیو نیوز، الجزیرہ، ریڈیو پاکستان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔