فرانس میں ہفتے کے روز شروع ہونے والے ملک گیر مظاہروں کے بعد پھیلنے والے تشدد پر قابو پانے کے لیے حکام نے پیر کو کئی شہروں میں جزوی کرفیو کا اعلان کر دیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق 18 اکتوبر کے مظاہروں میں طلبہ کے احتجاج کے ساتھ مہنگائی اور سرکاری خدمات کی خراب صورتحال کے خلاف شہریوں کا احتجاج بھی شامل ہو گیا، اور پانچ لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکلے۔
طلبہ کئی ہفتوں سے کلاس رومز میں بھیڑ، اساتذہ کی کمی اور تعلیمی شعبے میں کم سرمایہ کاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہروں کے دوران کئی شہروں میں لوٹ مار، آتش زنی اور املاک کو نقصان پہنچانے کے واقعات پیش آئے۔ نقاب پوش افراد نے ٹاؤن ہالز اور تھانوں سمیت سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا، بعض شہروں میں سینکڑوں دکانیں لوٹی گئیں اور لیون میں سیاحتی دفتر کو آگ لگا دی گئی۔ پیرس کی میئر کے مطابق اتوار کو شہر میں تقریباً تیس دکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
سرکاری بیانات کے مطابق ہفتے کے دن دو ہزار تین سو سے زائد افراد گرفتار ہوئے، جبکہ وزیر انصاف کے مطابق ہفتے کے اختتام تک دو ہزار تین سو تیس سے زیادہ لوگ حراست میں لیے گئے جن میں ستر فیصد بالغ تھے۔ اتوار اور رات کے دوران پیرس میں تقریباً 350 گرفتاریاں ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق ہفتے کو تقریباً ایک ہزار پولیس اور جینڈرمیری اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ ملک بھر میں ساٹھ ہزار کے قریب اہلکار تعینات تھے۔
وزیرِ داخلہ لوراں نونیز نے تسلیم کیا کہ پولیس نے صورتحال پر قابو کھو دیا اور پیشگی اندازے کی کمی رہی۔ بڑے شہروں کے میئروں نے بھی ناکافی تیاری پر وضاحت طلب کی ہے۔ صدر ایمانوئل میکرون نے پیر کی صبح وزیرِ داخلہ کا استعفیٰ قبول نہیں کیا اور کہا کہ سکیورٹی کا کمانڈ نظام برقرار رکھنے کے لیے انہیں عہدے پر رہنا چاہیے۔ صدر نے لوٹ مار سے نمٹنے کے نئے طریقوں اور انٹیلی جنس کی ناکامیوں پر شفافیت کی بھی ہدایت کی۔
وزیر اعظم سباستیان لیکورنو نے علاقائی حکام سے جزوی اور مقامی کرفیو نافذ کرنے کو کہا۔ ان کے مطابق پورے پیرس میں کرفیو فی الحال زیرِ غور نہیں، تاہم ضرورت پڑنے پر ہنگامی حالت کا اعلان ممکن ہے۔ پیرس میں پلاس دے لا ریپبلیک اور لے آل کے علاقے میں رات گیارہ بجے سے منگل کی صبح چھ بجے تک کرفیو رہے گا، جبکہ شہر بھر میں مظاہروں پر شام آٹھ بجے سے پابندی ہے۔ لیون، نیس اور کولین میں پیر کی رات کرفیو ہے، بعض جگہ صرف نابالغوں پر، جبکہ للّ اور قریبی تین علاقوں میں پیر اور منگل کی راتوں کے لیے پابندی ہے۔
یہ بدامنی صدارتی انتخابات سے تقریباً چھ ماہ پہلے اور کمزور معیشت اور بڑھتے قومی قرضوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ مختلف خبر رساں اداروں کی تفصیلات میں کچھ فرق ہے، اس لیے یہاں وہی معلومات شامل ہیں جو الجزیرہ کی رپورٹ میں دی گئیں اور آر ٹی ای کی کرفیو سے متعلق خبر سے مطابقت رکھتی ہیں۔