جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی: برینٹ 101.59 ڈالر فی بیرل، جی سیون کے ذخائر جاری کرنے کے فیصلے کا اثر

رائٹرز کے مطابق مشرق وسطیٰ کی بڑھتی برآمدات اور جی سیون کی جانب سے ہنگامی ذخائر کے اجرا نے قیمتوں کو دبا دیا، تاہم خلیج میں توانائی تنصیبات پر حملوں کے خدشات برقرار ہیں۔
تیل صاف کرنے کی ایک ریفائنری، فائل تصویر
علامتی تصویر: Sgroey، CC BY-SA 4.0، بذریعہ وکی میڈیا کامنز

پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ہوئی کیونکہ مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات بڑھیں اور گروپ آف سیون (جی سیون) ممالک نے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ رائٹرز کے مطابق 0240 جی ایم ٹی پر برینٹ کے سودے 66 سینٹ یعنی 0.65 فیصد کمی کے ساتھ 101.59 ڈالر فی بیرل پر تھے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 95 سینٹ یعنی 1.03 فیصد کمی سے 90.12 ڈالر پر آ گیا۔

رائٹرز کے مطابق برینٹ نے گزشتہ ہفتے کے بیشتر اضافے کو گنوا دیا جبکہ ڈبلیو ٹی آئی ہفتہ وار بنیاد پر 1.6 فیصد کم رہا۔ جمعہ کو جی سیون ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل ڈیزل اور خام تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے بعد توانائی کی برآمد پر پابندیوں سے گریز کا بھی عہد کیا۔

شپنگ ڈیٹا کے مطابق ستمبر کے آخری ہفتے کے سات میں سے چار دن مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے اوپر رہیں، حالانکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر حملے ہوتے رہے۔ کے سی ایم ٹریڈ کے تجزیہ کار ٹِم واٹرر کے مطابق ذخائر کے اجرا اور سعودی برآمدات کے جنگ سے پہلے کی سطح کی طرف لوٹنے کے تاثر نے قیمتوں کو فی الحال دبائے رکھا ہے، تاہم خلیج میں توانائی تنصیبات کو مزید نقصان پہنچنے کے خطرات ختم نہیں ہوئے۔

حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ریاض اور خریص کے علاقے میں سعودی آرامکو کی تنصیبات پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے، جو ان کے بقول یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد کے گزشتہ 12 گھنٹوں کے 50 فضائی اور میزائل حملوں کا جواب تھا؛ سعودی عرب کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اتوار کو یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقے واپس لینے کے لیے بڑی فوجی مہم کا اعلان کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق آرامکو نے اچانک ایشیا کے لیے نومبر کے خام تیل کی قیمتیں چھ سال کی کم ترین سطح پر کر دی ہیں، جبکہ دو ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اوپیک پلس نے ایران جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں صلاحیت بڑھانے کے منصوبے متاثر ہونے کے بعد 2027 کے پیداواری کوٹے کا جائزہ مؤخر کر دیا ہے۔ ڈان کی 4 اکتوبر کی ایک رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے 32 کروڑ 50 لاکھ بیرل ہنگامی تیل جاری ہونے کا بتایا تھا۔

ذرائع: رائٹرز بحوالہ پرافٹ، ڈان (4 اکتوبر)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔