وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اتوار کو بتایا کہ حکومت نے ایل پی جی کی درآمد میں سہولت کے لیے وفاقی کابینہ کو سمری بھیج دی ہے، جو عالمی توانائی خطرات کے پیش نظر ایندھن کی قلت سے بچاؤ کے ہنگامی اقدامات کا حصہ ہے۔ پرافٹ کی رپورٹ کے مطابق وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت خام تیل، پیٹرول، ڈیزل، گیس اور ایل پی جی کی دستیابی کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کر رہی ہے، خاص طور پر آنے والی سردیوں اور عالمی توانائی منڈیوں کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر۔
انہوں نے بتایا کہ دسمبر، جنوری اور فروری میں گیس کی طلب پوری کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں اور وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو متوقع ضروریات، دستیاب سپلائی اور ممکنہ چیلنجز پر بریفنگ دی جا چکی ہے۔ ایل پی جی کی قیمت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کا تعین اوگرا کرتی ہے اور سعودی آرامکو کا ماہانہ کنٹریکٹ پرائس اس کے طریقہ کار کا اہم حصہ ہے۔
وزیر نے یہ بھی بتایا کہ حکومتی پیٹرولیم ریلیف اسکیم سے نو ملین سے زائد افراد مستفید ہو چکے ہیں، جس کے تحت اہل موٹر سائیکل سواروں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کو 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ اسکیم مالی وسائل کی دستیابی سے مشروط طور پر جاری رہے گی، جبکہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوئیں تو اس کا فائدہ صارفین کو منتقل کیا جائے گا۔
علی پرویز ملک نے ریاض کے قریب تیل تنصیبات پر حملوں اور باب المندب کے قریب بحری راستوں میں خلل پر تشویش کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ عالمی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے اثرات محدود رکھنے کے لیے ایندھن کی دستیابی کی پیشگی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ واضح رہے کہ 2 اکتوبر کے نوٹیفکیشن کے مطابق ملک میں پیٹرول کی قیمت 392.76 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 399.64 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی تھی (ڈان)۔
ذرائع: پرافٹ، ڈان (2 اکتوبر، قیمتیں)