جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین

رپورٹ: پاکستان میں 2025 میں شمسی بجلی کی پیداوار پہلی بار جوہری توانائی سے بڑھ گئی، جوہری پیداوار بھی ریکارڈ سطح پر

ورلڈ نیوکلیئر انڈسٹری اسٹیٹس رپورٹ 2026 کے مطابق پاکستان میں جوہری بجلی 22.5 ٹیراواٹ آور کی ریکارڈ سطح پر رہی، جبکہ شمسی پیداوار 36.3 ٹیراواٹ آور تک پہنچ گئی۔
سندھ کے علاقے غارو میں شمسی توانائی کے پارک کی فائل تصویر
علامتی تصویر: شہاب، CC BY-SA 4.0، بذریعہ وکی میڈیا کامنز

ورلڈ نیوکلیئر انڈسٹری اسٹیٹس رپورٹ (ڈبلیو این آئی ایس آر) 2026 کے مطابق پاکستان میں 2025 کے دوران جوہری بجلی کی پیداوار 3.7 فیصد اضافے کے ساتھ 22.5 ٹیراواٹ آور کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی، جو 2024 میں 21.7 ٹیراواٹ آور تھی۔ ڈان کے مطابق اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پہلی بار شمسی بجلی کی پیداوار جوہری پیداوار سے کہیں زیادہ، یعنی 36.3 ٹیراواٹ آور رہی، اور رپورٹ کے بقول یہ تخمینہ حقیقت سے کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چھ جوہری ری ایکٹر کام کر رہے ہیں جن کی مجموعی صلاحیت 3,262 میگاواٹ ہے اور یہ سب چائنا نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن نے تعمیر کیے ہیں، جن میں کراچی کے قریب دو ہوالونگ ون ری ایکٹر (کینپ 2 اور کینپ 3) اور چشمہ کے چار 300 میگاواٹ کے ری ایکٹر شامل ہیں۔ چشمہ میں 1000 میگاواٹ کا پانچواں ری ایکٹر زیر تعمیر ہے، جس کی بنیادی کنکریٹ ڈالنے کا آغاز 30 دسمبر 2024 کو ہوا اور اس کی تکمیل 2030 تک متوقع ہے۔

شمسی توانائی کے بارے میں رپورٹ کا کہنا ہے کہ جنوری 2017 سے 2026 کے وسط تک پاکستان نے چین سے مجموعی طور پر 58 گیگاواٹ سے زائد سولر پینل درآمد کیے، جن میں سے 40 گیگاواٹ یعنی 69 فیصد 2024 سے 2026 کے وسط کے ڈھائی برسوں میں آئے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نیدرلینڈز کے بعد ایک ملک کے طور پر دوسری بڑی درآمدی منڈی بن چکا ہے، اور پانچ برسوں میں اتنی شمسی صلاحیت نصب کی گئی جو فرانس نے ایک دہائی میں نصب کی۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کے موسم گرما تک شمسی توانائی ملک میں بجلی کا سب سے بڑا واحد ذریعہ بن چکی تھی۔

رپورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ شمسی پھیلاؤ کا بڑا حصہ نجی اور غیر رجسٹرڈ تنصیبات پر مشتمل ہے جن کی خود استعمالی قومی گرڈ سے نہیں گزرتی، اسی لیے بجلی کی کھپت میں بظاہر کمی نظر آتی رہی۔ عالمی سطح پر ترک جریدے پارا درگی نے استنبول میں 29 ستمبر کو رپورٹ کے تعارف کے حوالے سے لکھا ہے کہ 2025 میں دنیا بھر میں شمسی بجلی کی پیداوار 30 فیصد، ہوا سے 8 فیصد اور جوہری سے صرف 1 فیصد بڑھی، اور پہلی بار عالمی سطح پر شمسی پیداوار جوہری سے زیادہ رہی۔

ذرائع: ڈان (خلیق کیانی)، پارا درگی (عالمی رپورٹ کا تعارف)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔