سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے موبائل کمپنی جاز کی جانب سے صارفین سے مبینہ زائد وصولی کی تحقیقات کے لیے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کی صدارت سینیٹر پلوشہ خان نے کی اور ذیلی کمیٹی کی سربراہی سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان کریں گے۔
الزام کیا ہے؟
ڈان کے مطابق پی ٹی اے کے 2024 کے آڈٹ میں اعتراض اٹھایا گیا کہ جاز نے پی ٹی اے کے منظور شدہ ٹیرف سے 5.83 ارب روپے زائد وصول کیے۔ آڈٹ کے مطابق پی ٹی اے نے 3 فیصد کی قابل اجازت حد کے باوجود 15 فیصد ٹیرف اضافے کی اجازت دی۔ آڈیٹر جنرل نے ٹیرف پالیسی کے فیصلوں پر مسابقتی کمیشن سے مشاورت کی تجویز بھی دی۔
فریقین کا مؤقف
چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر آپریٹر کی جانب سے "ایک روپیہ بھی” زائد وصولی ثابت ہوئی تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔ جاز کا کہنا ہے کہ معاملہ سرکاری اداروں سے متعلق ہے اور طلب کیے جانے پر وہ اپنا مؤقف پیش کرنے کو تیار ہے۔