جمعرات، 29 اکتوبر 2026

ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان “توانائی جنگ بندی” کا اعلان؛ زیلنسکی کھہتے ہیں انہیں پوسٹ سے پتا چلا

امریکی صدر نے توانائی جنگ بندی کا اعلان کیا، جبکہ یوکرینی صدر نے کہا کہ یوکرین حمایت کرتا ہے مگر روس کی حمایت ضروری ہے اور امریکی تفصیلات کا انتظار ہے۔
رات کے وقت ماسکو کی ایک آئل ریفائنری کا فضائی منظر (فائل تصویر، علامتی)
تصویر: Artem Svetlov from Moscow, Russia / Wikimedia Commons / CC BY 2.0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو اعلان کیا کہ روس اور یوکرین ایک “توانائی جنگ بندی” پر متفق ہو گئے ہیں جو فوری طور پر نافذ ہو گی، تاہم یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا کہ انہیں اس کی پہلی اطلاع ٹرمپ کی پوسٹ سے ملی۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، جو ایکسپریس ٹریبیون نے شائع کی، یوکرین کے ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ کیف ایسی جنگ بندی پر تیار ہے بشرطیکہ روس بھی تیار ہو۔

ٹرمپ کی پوسٹ

ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ دونوں فریق متفق ہیں اور اسے توڑا نہ جائے، مگر مزید تفصیل نہیں دی۔ رپورٹ کے مطابق وہ ستمبر کے وسط میں بھی توانائی جنگ بندی کا اعلان کر چکے تھے، لیکن کسی فریق نے ایسے معاہدے کی تصدیق نہیں کی تھی۔

زیلنسکی کا مؤقف

ایگزیوس کو انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ ٹرمپ کی پوسٹ ان کے لیے پہلی خبر تھی۔ اتوار ہی کو انہوں نے اپنا دیرینہ مؤقف دہرایا کہ یوکرین روسی ریفائنریوں پر حملے روکنے کو تیار ہے، بشرطیکہ ماسکو بھی یوکرینی بجلی کے ڈھانچے پر حملے بند کرے، اور اس کے لیے “حقیقی ضمانتیں” درکار ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں جنگ کی اصل وجہ صرف روس ہے اور توانائی کے ڈھانچے پر حملے آج ہی رک سکتے ہیں، مگر ان کے بقول پیوٹن ایسا نہیں چاہتے۔ بعد ازاں سوشل میڈیا پیغام میں زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے، امریکی جانب سے تفصیلات کا منتظر ہے اور روس کی حمایت بھی ضروری ہے۔

انتخابات اور ڈیزل معاہدہ

ہفتے کو ٹرمپ نے زیلنسکی کو خبردار کیا تھا کہ وہ روسی ریفائنریوں پر حملے بند کریں اور یوکرینیوں پر زور دیا کہ نئے انتخابات کے ذریعے قیادت تبدیل کریں۔ اے بی سی کے پروگرام میں زیلنسکی نے جواب دیا کہ اگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 60 روزہ مکمل جنگ بندی پر راضی ہوں تو وہ انتخابات کرانے کے لیے تیار ہیں۔ یوکرینی قانون مارشل لا کے دوران انتخابات کی اجازت نہیں دیتا۔ انہوں نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار خود کو ٹھہرانے کو مسترد کیا اور کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ بڑا عامل ہے۔

ہفتے ہی کو ٹرمپ نے روس کے ساتھ ڈیزل سپلائی معاہدے کا اعلان کیا تھا۔ زیلنسکی کے مطابق اس سے ماسکو کے حملوں کو حوصلہ ملے گا اور شہری جانی نقصان بڑھے گا۔ ریپبلکن رکنِ کانگریس ڈان بیکن سمیت امریکی قانون سازوں نے بھی معاہدے پر تنقید کی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حجم کم ہونے کے باعث اس سے ایندھن کی قیمتیں مستقل کم ہونے کا امکان نہیں۔

کیف کا ردِعمل اور آئندہ اقدامات

کیف کی 40 سالہ استاد سبینا نے ٹرمپ کی تجویز پر ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ جنگ کے دوران انتخابات نہیں ہو سکتے۔پیر کو یوکرینی وزیرِ خارجہ آندری سیبیہا یورپی یونین کی خارجہ امور کونسل کے اجلاس میں شریک ہوں گے، جس میں روس پر پابندیاں بڑھانے اور یوکرین کی رکنیت کے مذاکرات پر بات متوقع ہے۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون (Reuters)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔