آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پر امریکا اور ایران کے مذاکرات کار آئندہ چند روز میں دوبارہ رابطہ کر سکتے ہیں۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے مذاکرات کار "اگلے چند دنوں میں” ایرانی ہم منصبوں سے بات کریں گے، حالانکہ وہ ایران کا تازہ منصوبہ مسترد کر چکے ہیں۔
امریکا کا مؤقف
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے این بی سی نیوز سے گفتگو میں ایرانی تجویز کو ایک "سنکی کوشش” قرار دیا اور کہا کہ ایران نے ایسی شرائط رکھیں جن کے بارے میں اسے معلوم تھا کہ وہ قابلِ قبول نہیں ہوں گی۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی تجویز میں جنگ بندی، پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے مطالبات شامل تھے۔
ایران کا مؤقف
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کی شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کھولنے کا کوئی بھی قدم انہی شرائط کے پورا ہونے سے مشروط ہے۔ سی این این کے مطابق تہران کا کہنا ہے کہ وہ ثالثوں کے ذریعے "حتمی” امریکی جواب کا منتظر ہے۔
ڈان کے مطابق ایرانی فوج کے کمانڈر امیر حاتمی نے خبردار کیا کہ اگر ایران تجارت نہیں کر سکتا تو کوئی بھی تجارت نہیں کر سکے گا۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک خودکار زیرِ آب گاڑی قبضے میں لینے کا دعویٰ بھی کیا، جس کی پینٹاگون نے تردید کی ہے۔
پس منظر
آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ رواں سال امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران نے یہ آبنائے بند کر دی تھی، جبکہ امریکا نے ایران پر بحری ناکہ بندی عائد کر رکھی ہے۔ ڈان کے مطابق آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد نمایاں حد تک کم ہو چکی ہے۔
ذرائع: ڈان، سی این این، این بی سی نیوز