جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

امریکی افواج کا عراق سے انخلا آج مکمل ہونے کا امکان، عراق میں چار روزہ یومِ خودمختاری

امریکی فوج آج 30 ستمبر تک عراق میں اپنے آخری اڈوں سے نکلنے والی ہے؛ ایران اور اس کے حامی گروہ اسے کامیابی قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض عراقی حلقے سیکیورٹی خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔
عراق کے شمالی شہر اربیل کا تاریخی قلعہ، علامتی تصویر
تصویر: jan kurdistani / Wikimedia Commons (CC BY-SA 2.0)

امریکی فوج آج بدھ 30 ستمبر تک عراق میں اپنے آخری اڈوں سے انخلا مکمل کرنے والی ہے، جس کے ساتھ ملک میں دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط امریکی فوجی موجودگی کا خاتمہ ہو جائے گا۔

انخلا کا پس منظر

اے بی سی نیوز کے مطابق انخلا کا معاہدہ 2024 میں بائیڈن انتظامیہ نے عراق کے ساتھ کیا تھا اور ٹرمپ انتظامیہ نے 30 ستمبر کی حتمی تاریخ برقرار رکھی۔ رپورٹ کے مطابق یہ دوسرا موقع ہے کہ امریکہ عراق سے اپنی تمام فوج نکال رہا ہے؛ موجودہ تعیناتی 2014 میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران شروع ہوئی تھی۔ اے بی سی کے مطابق ایران کے ساتھ امریکی جنگ نے خطے کی صورتحال کو اس وقت سے مختلف بنا دیا ہے جب یہ معاہدہ طے پایا تھا۔

الجزیرہ کے مطابق عراق انخلا کے موقع پر چار روزہ قومی تعطیلات ’یومِ خودمختاری‘ کے طور پر منا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے معاہدے میں امریکہ کی جانب سے آئندہ غیر پابند سیکیورٹی تعاون کا عزم شامل ہے، جبکہ تعلقات کو عسکری سے معاشی شراکت کی طرف منتقل کرنے کی کوشش جاری ہے۔

ردعمل اور خدشات

روئٹرز کے مطابق ایران اور اس کے حمایت یافتہ عراقی مسلح گروہوں نے انخلا کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نواز گروہوں کی طاقت پر تشویش رکھنے والے بعض عراقی حلقے اسے قبل از وقت سمجھتے ہیں۔ عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان گروہوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

روئٹرز سے گفتگو میں ایک عراقی ذریعے نے بتایا کہ انخلا کے اعلان کے بعد سے داعش کے خفیہ سیلز کی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔ روئٹرز کے مطابق عراق جنگ میں تقریباً ساڑھے چار ہزار امریکی ہلاک ہوئے تھے۔

ذرائع: اے بی سی نیوز، الجزیرہ، روئٹرز (بذریعہ یو ایس نیوز)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔