جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

اسلام آباد ہائی کورٹ: ایجنسیوں کی سفارش پر شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا قاعدہ غیر آئینی قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاسپورٹ رولز 2021 کے قاعدہ 22(2)(b) کے اس حصے کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے تحت سرکاری اداروں کی سفارش پر، کسی مجاز اتھارٹی کے تعین یا قانونی تحفظ کے بغیر، کسی شہری کا نام پی سی ایل میں ڈالا جا سکتا تھا۔
پاکستانی پاسپورٹ، علامتی تصویر
علامتی تصویر: Mike35741، CC BY-SA 3.0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاسپورٹ رولز 2021 کی اس شق کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے جس کے تحت سرکاری اداروں یا محکموں کی سفارش پر کسی شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں ڈالا جا سکتا تھا۔ ڈان کے مطابق جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے تفصیلی فیصلے میں قاعدہ 22(2)(b) کے دوسرے حصے کو پاسپورٹس ایکٹ 1974 اور آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 10-اے اور 15 سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسے بے اثر قرار دیا۔

درخواست گزار کا معاملہ

یہ فیصلہ معین الدین نامی شہری کی درخواست پر سنایا گیا، جنہیں 18 دسمبر 2025 کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عمرے کے لیے سعودی عرب جاتے ہوئے آف لوڈ کر دیا گیا تھا۔ ان کے پاس درست پاسپورٹ، سعودی ویزا اور کنفرم ٹکٹ موجود تھا، مگر انہیں روکنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

فیصلے کے مطابق ان کا نام 24 دسمبر 2024 کو این سی بی انٹرپول کی سفارش پر، جو ایف آئی اے کے امیگریشن ونگ کے ذریعے بھیجی گئی تھی، پی سی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ اقدام برطانیہ میں نشے کی حالت میں خطرناک ڈرائیونگ سے موت کا سبب بننے پر سزا پوری کرنے کے بعد ان کی ملک بدری کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ وہ سزا مکمل کر چکے ہیں اور پاکستان میں ان کے خلاف کوئی مقدمہ، انکوائری یا تحقیقات زیرِ التوا نہیں۔

عدالت کی آبزرویشنز

عدالت نے قرار دیا کہ پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار اور سفر پر پابندی دو الگ اختیارات ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ متعلقہ قاعدے میں نہ کوئی مجاز اتھارٹی مقرر ہے، نہ کوئی معروضی معیار، نہ نوٹس، نہ سماعت اور نہ ہی فیصلے سے آگاہ کرنے کا طریقہ، جس کے باعث شہری کو پابندی کا علم صرف امیگریشن کاؤنٹر پر روکے جانے پر ہوتا ہے۔

عدالت نے پاسپورٹ حکام کا یہ مؤقف بھی مسترد کر دیا کہ نام برقرار رکھنے کا مقصد ملکی ساکھ کا تحفظ اور دوسروں کے لیے عبرت ہے، کیونکہ یہ بنیادیں نہ پاسپورٹس ایکٹ میں موجود ہیں اور نہ ہی پاسپورٹ رولز میں۔

حکام کو ہدایات

عدالت نے 26 جنوری 2026 کا متعلقہ حکم نامہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست گزار کا نام فیصلے کی مصدقہ نقل ملنے کے 15 دن کے اندر پی سی ایل سے نکالنے اور ان کے قانونی سفر میں مداخلت نہ کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مجاز اتھارٹی قانون کے مطابق طریقہ کار اپناتے ہوئے کارروائی کر سکتی ہے۔ فیصلے کی نقول سیکریٹری داخلہ، ڈی جی امیگریشن اینڈ پاسپورٹس اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھیج دی گئی ہیں۔

ذرائع: ڈان

ماخذ: ڈان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔