جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کے اجرا کے لیے مذاکرات آج سے شروع

آئی ایم ایف مشن 7 ارب ڈالر کے پروگرام کے چوتھے جائزے پر آج سے مذاکرات کر رہا ہے؛ کامیابی کی صورت میں پاکستان کو تقریباً 1.2 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔
واشنگٹن میں آئی ایم ایف کے صدر دفتر کی عمارت
علامتی تصویر: Carol M. Highsmith، Public domain، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام (ای ایف ایف) کے چوتھے جائزے پر باضابطہ مذاکرات آج سے شروع ہو رہے ہیں۔ ڈان کے مطابق آئی ایم ایف مشن کی قیادت ایوا پیٹرووا کر رہی ہیں اور مشن اکتوبر کے پہلے ہفتے تک پاکستان میں قیام کرے گا۔

کتنی رقم داؤ پر ہے؟

رپورٹس کے مطابق جائزہ کامیاب ہونے اور آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کی صورت میں پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے کے تحت تقریباً 20 کروڑ ڈالر مل سکتے ہیں۔ یوں مجموعی رقم لگ بھگ 1.2 ارب ڈالر بنتی ہے، جس کی ادائیگی نومبر کے آخر یا دسمبر کے آغاز تک متوقع ہے۔

یہ 37 ماہ کا پروگرام ہے، جس کا مقصد مالیاتی نظم و ضبط اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا ہے۔

مذاکرات میں کن امور پر بات ہوگی؟

پرو پاکستانی کی رپورٹ کے مطابق ایجنڈے میں یہ نکات شامل ہیں:

  • ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور ایف بی آر کی کارکردگی
  • صوبائی محصولات میں اضافے کے اقدامات
  • توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ
  • کرنٹ اکاؤنٹ اور شرح مبادلہ کی صورتحال
  • خودمختار دولت فنڈ اور شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن
  • منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام

اسی رپورٹ کے مطابق شوگر سیکٹر کی آزادی اور صحت و تعلیم پر اخراجات سے متعلق بعض شرائط ابھی مکمل طور پر پوری نہیں ہو سکیں۔

پی آئی اے طیاروں کے لیے سرکاری ضمانت نہیں

ادھر وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے واضح کیا ہے کہ حکومت نجکاری کے بعد کی پی آئی اے کے لیے نہ طیارے خرید رہی ہے اور نہ ہی ٹیکس دہندگان کے پیسے سے کسی قرض کی خودمختار ضمانت کا اعلان کیا گیا ہے۔

ذرائع: ڈان، پرو پاکستانی، ڈیلی پاکستان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔