خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف حکمتِ عملی پر وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان پیر کے روز بیانات کا تبادلہ مزید تیز ہو گیا۔ اسلام آباد میں وفاقی وزرا نے صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی، جبکہ پشاور میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاق کی پالیسی کو ایک بار پھر ناقص قرار دیا۔
وفاقی وزرا کا مؤقف
ڈان اور دی اسٹینڈرڈ کی رپورٹس کے مطابق وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی فورسز کو قیادت، وسائل اور اختیارات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ صوبائی قیادت افغانستان کا نام لے کر کھل کر مذمت کیوں نہیں کرتی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اپنے خدشات کابل تک مذاکرات، دستاویزی ثبوتوں اور بین الاقوامی فورمز کے ذریعے پہنچائے ہیں۔
وزیراعلیٰ آفریدی کا جواب
پشاور میں امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ جب تک پالیسی میں تبدیلی نہیں آتی، صرف پولیس کو وسائل فراہم کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ڈان کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ ریاست کی موجودہ پالیسی درست نہیں۔
ایک روز قبل ڈیرہ اسماعیل خان کے دورے میں، جہاں انہوں نے درازندہ میں چیک پوسٹ پر حملے کے زخمیوں کی عیادت کی، وزیراعلیٰ نے مطالبہ کیا تھا کہ انسدادِ دہشت گردی کی پالیسی سازی میں صوبے کو بھی شامل کیا جائے اور زمینی حقائق کو پیشِ نظر رکھا جائے۔
پس منظر
خیبر پختونخوا میں حالیہ ہفتوں کے دوران سکیورٹی فورسز، پولیس اور شہریوں پر متعدد حملے ہوئے ہیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان واقعات کے تناظر میں ایک دوسرے کی حکمتِ عملی پر سوال اٹھا رہی ہیں۔
ذرائع: ڈان، دی اسٹینڈرڈ، ڈان (ڈیرہ اسماعیل خان)