جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

دل کی صحت کے لیے کیا کھائیں؟ عالمی ادارہ صحت کی سفارشات اور پاکستانی کھانوں کی مثالیں

عالمی یومِ قلب کی مناسبت سے: دل کی صحت کے لیے کیا کھائیں، نمک، چینی اور چکنائی کی کتنی حد ہے اور پاکستانی گھروں میں عالمی ادارہ صحت کی سفارشات پر عمل کیسے کریں۔
اتوار بازار میں سبزیوں کا ایک اسٹال، علامتی تصویر
علامتی تصویر: Haiderparog، CC BY-SA 4.0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

29 ستمبر کو دنیا بھر میں عالمی یومِ قلب منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی ہوتا ہے کہ دل کی صحت کے لیے کیا کھائیں اور کن چیزوں سے پرہیز کریں؟ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دل اور خون کی نالیوں کی بیماریاں دنیا میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں، اور ان کے کئی خطرات کا تعلق ہماری روزمرہ خوراک اور طرزِ زندگی سے ہے۔ اس مضمون میں عالمی ادارہ صحت کی غذائی سفارشات کو پاکستانی کھانوں اور گھریلو عادات کے تناظر میں آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عمومی آگاہی کے لیے ہے۔ اگر آپ کو پہلے سے دل کی بیماری، بلڈ پریشر، ذیابیطس یا کولیسٹرول کا مسئلہ ہے تو اپنی غذا میں تبدیلی اپنے ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت کے مشورے سے کریں۔

دل کی بیماریاں کتنی عام ہیں؟

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2022 میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ 98 لاکھ افراد دل اور خون کی نالیوں کی بیماریوں سے جاں بحق ہوئے، جو دنیا بھر کی کل اموات کا تقریباً 32 فیصد ہے۔ ادارے کے مطابق ان بیماریوں کے اہم رویہ جاتی خطرات میں تمباکو نوشی، غیر صحت مند غذا (جس میں زیادہ نمک، چینی اور چکنائی شامل ہے) اور موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی، الکحل کا نقصان دہ استعمال اور فضائی آلودگی شامل ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی عوامل ہمارے اپنے اختیار میں ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کی بنیادی غذائی سفارشات

غذائی جزو عالمی ادارہ صحت کی سفارش (بالغ افراد)
پھل اور سبزیاں روزانہ کم از کم 400 گرام
نمک روزانہ 5 گرام سے کم (تقریباً ایک چائے کا چمچ)، اور آیوڈین ملا نمک استعمال کریں
فری شوگر (اضافی چینی) کل روزانہ توانائی کے 10 فیصد سے کم، یعنی تقریباً 50 گرام یا لگ بھگ 12 چائے کے چمچ
کل چکنائی کل روزانہ توانائی کا 30 فیصد یا اس سے کم
سیچوریٹڈ فیٹ کل توانائی کے 10 فیصد سے زیادہ نہیں
ٹرانس فیٹ کل توانائی کے 1 فیصد سے زیادہ نہیں

یہ اعداد پہلی نظر میں مشکل لگ سکتے ہیں، مگر انہیں روزمرہ کھانے میں ڈھالنا اتنا مشکل نہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کیسے۔

دل کی صحت کے لیے کیا کھائیں؟

1. موسمی پھل اور سبزیاں

روزانہ 400 گرام پھل اور سبزیاں کا مطلب ہے کہ ہر کھانے میں کچھ سبزی اور دن میں دو تین پھل شامل ہوں۔ امرود، کینو، سیب، کیلا، پپیتا، گاجر، پالک، میتھی، کدو، ٹینڈے اور بھنڈی جیسی موسمی چیزیں عام طور پر سستی بھی ہوتی ہیں اور آسانی سے دستیاب بھی۔ سلاد کو کھانے کا مستقل حصہ بنائیں۔

2. دالیں اور لوبیا

مسور، ماش، مونگ، چنے اور لوبیا پروٹین اور فائبر کا اچھا ذریعہ ہیں۔ ہفتے میں کئی بار دال پکانا گوشت پر انحصار کم کرنے کا آسان طریقہ ہے۔ بس خیال رکھیں کہ تڑکا گھی کی زیادہ مقدار میں نہ ہو۔

3. سالم اناج

بغیر چھنے آٹے کی روٹی، دلیہ اور جو جیسے سالم اناج میں ریشہ زیادہ ہوتا ہے۔ میدے سے بنی اشیاء، جیسے سفید ڈبل روٹی، نان اور بسکٹ کو کم کریں۔

4. مچھلی اور کم چکنائی والا گوشت

عالمی ادارہ صحت کی عملی تجاویز میں چربی والے گوشت کے بجائے کم چکنائی والا گوشت منتخب کرنے کا مشورہ شامل ہے۔ مرغی کی جلد اتار کر پکائیں، گوشت کی نظر آنے والی چربی الگ کریں اور ہفتے میں کبھی کبھار مچھلی کو شامل کریں۔

5. گری دار میوے اور بیج

اخروٹ، بادام اور مونگ پھلی جیسی چیزیں اعتدال سے استعمال کی جا سکتی ہیں۔ نمکین اور تلے ہوئے میوے کے بجائے سادہ میوے کو ترجیح دیں۔

6. کھانا پکانے کا تیل

عالمی ادارہ صحت مکھن اور چربی (جیسے بناسپتی گھی) کی جگہ پولی ان سیچوریٹڈ فیٹ والے تیلوں کے استعمال کا مشورہ دیتا ہے۔ اسی طرح تلنے کے بجائے ابالنے یا بھاپ میں پکانے کو ترجیح دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ پاکستانی گھروں میں یہ ایک بڑی تبدیلی ہو سکتی ہے: سالن میں تیل کی مقدار ناپ کر ڈالیں اور وقت کے ساتھ آہستہ آہستہ کم کریں۔

کن چیزوں سے پرہیز یا کمی کریں؟

نمک

پاکستانی کھانوں میں نمک صرف سالن تک محدود نہیں؛ اچار، چٹنی، پاپڑ، نمکو، چپس، نمکین بسکٹ اور پیکٹ والے مصالحوں میں بھی چھپا ہوتا ہے۔ کھانے کی میز پر الگ نمک دانی نہ رکھیں اور پکاتے وقت نمک آہستہ آہستہ کم کریں تاکہ ذائقہ اس کا عادی ہو جائے۔

چینی

دن میں کئی کپ میٹھی چائے، کولڈ ڈرنکس، ڈبے والے جوس اور مٹھائیاں مل کر چینی کی بڑی مقدار بن جاتی ہیں۔ چائے میں چینی کم کریں، کولڈ ڈرنکس کی جگہ سادہ پانی یا لسی (بغیر چینی) لیں اور مٹھائی کو خاص مواقع تک محدود رکھیں۔

ٹرانس فیٹ اور تلی ہوئی اشیاء

بار بار گرم کیے گئے تیل میں تلی اشیاء، بازاری سموسے، پکوڑے اور بعض بیکری آئٹمز میں غیر صحت مند چکنائی ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت پیکٹ والے اور بیکری کے ایسے کھانے محدود کرنے کا مشورہ دیتا ہے جن میں نمک، چینی یا غیر صحت مند چکنائی زیادہ ہو۔

ایک دن کا متوازن کھانا: عملی مثال

وقت مثال
ناشتہ دلیہ یا چوکر والی روٹی، ایک ابلا انڈا، ایک موسمی پھل، کم چینی والی چائے
دوپہر دال یا سبزی کا سالن کم تیل میں، چوکر والی روٹی، سلاد
شام مٹھی بھر سادہ میوے یا پھل
رات مرغی یا مچھلی کا ہلکا سالن، سبزی، سلاد اور تھوڑے چاول یا روٹی

یہ صرف ایک مثال ہے۔ ہر فرد کی ضروریات عمر، وزن، سرگرمی اور صحت کی حالت کے مطابق مختلف ہوتی ہیں۔

خوراک کے علاوہ دل کی حفاظت

  • تمباکو نوشی چھوڑیں: سگریٹ، حقہ اور تمباکو کی دیگر اقسام دل کی بیماریوں کے بڑے خطرات میں شامل ہیں۔
  • جسمانی سرگرمی: روزانہ تیز قدموں سے چہل قدمی کو معمول بنائیں۔
  • باقاعدہ معائنہ: بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کی جانچ کرواتے رہیں، خاص طور پر اگر خاندان میں دل کی بیماری کی تاریخ ہو۔
  • نیند اور ذہنی سکون: مناسب نیند مجموعی صحت کے لیے اہم ہے۔ بہتر نیند کے طریقے ہمارے مضمون نیند کی کمی کا علاج میں دیکھیں۔
  • آلودگی سے بچاؤ: عالمی ادارہ صحت فضائی آلودگی کو بھی دل کی بیماریوں کے خطرات میں شمار کرتا ہے۔ سردیوں میں اسموگ سے بچاؤ کے طریقے ہمارے مضمون اسموگ سے کیسے بچیں میں دیکھیں۔

ہارٹ اٹیک کی علامات پہچانیں

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہارٹ اٹیک کی ایک عام علامت سینے کے درمیان درد یا بے چینی ہے، اور اس کے ساتھ سانس لینے میں دشواری، متلی یا قے بھی ہو سکتی ہے۔ فالج کی صورت میں اچانک چہرے، بازو یا ٹانگ میں کمزوری، اکثر جسم کے ایک طرف، اور بولنے یا بات سمجھنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق ایسی علامات ظاہر ہوں تو فوراً طبی امداد حاصل کریں۔ پاکستان میں ہنگامی صورت میں 1122 پر کال کی جا سکتی ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا دیسی گھی دل کے لیے نقصان دہ ہے؟

دیسی گھی میں سیچوریٹڈ فیٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت سیچوریٹڈ فیٹ کو کل توانائی کے 10 فیصد تک محدود رکھنے کا مشورہ دیتا ہے، اس لیے اسے کم مقدار میں اور کبھی کبھار استعمال کرنا بہتر ہے۔

کیا انڈا کھانا چاہیے؟

زیادہ تر صحت مند افراد کے لیے انڈا متوازن غذا کا حصہ ہو سکتا ہے۔ اگر کولیسٹرول یا دل کی بیماری ہو تو مقدار کا فیصلہ ڈاکٹر کے مشورے سے کریں۔

کیا لہسن یا کوئی خاص جڑی بوٹی دل کی بیماری کا علاج ہے؟

متوازن غذا مجموعی صحت کے لیے اہم ہے، مگر کسی ایک غذا یا جڑی بوٹی کو دل کی بیماری کا علاج سمجھ کر ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیں چھوڑنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

نمک کی مقدار کیسے ناپیں؟

عالمی ادارہ صحت کی حد 5 گرام روزانہ ہے جو تقریباً ایک ہموار چائے کے چمچ کے برابر ہے، اور اس میں کھانوں میں پہلے سے موجود نمک بھی شامل ہے۔

کیا صرف غذا بدلنے سے بلڈ پریشر کنٹرول ہو سکتا ہے؟

نمک کم کرنا اور متوازن غذا بلڈ پریشر پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں، مگر جن افراد کو ڈاکٹر نے دوا تجویز کی ہے وہ اپنی مرضی سے دوا بند نہ کریں۔

خلاصہ

دل کی صحت کے لیے روزانہ کم از کم 400 گرام پھل اور سبزیاں، دالیں اور سالم اناج کھائیں؛ نمک 5 گرام سے کم رکھیں، چینی اور تلی ہوئی اشیاء کم کریں، اور تیل کی مقدار پر نظر رکھیں۔ ساتھ ہی تمباکو سے دوری، روزانہ جسمانی سرگرمی اور باقاعدہ طبی معائنہ اپنائیں۔ عالمی یومِ قلب ایک اچھا موقع ہے کہ اپنے گھر کے کھانوں میں آج ہی ایک چھوٹی تبدیلی سے آغاز کیا جائے۔

مزید پڑھیں

ذرائع اور مزید معلومات: WHO – Healthy diet fact sheet، WHO – Cardiovascular diseases (CVDs) fact sheet، World Heart Federation – World Heart Day

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔