جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین

پولیو: بنوں ڈویژن انسدادِ پولیو کوششوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ؛ ملک میں رواں سال کے پانچ میں سے چار کیس وہیں سے

ڈان کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر خیبر پختونخوا کی تازہ مہم میں بنوں میں 86 فیصد بچوں تک رسائی ہو سکی، جبکہ ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں جنوبی خیبر پختونخوا کو وائرس کی منتقلی کے بڑے خطوں میں شمار کیا گیا ہے۔
پاکستان میں پولیو ویکسینیشن کی فائل تصویر
علامتی تصویر: CDC Global، CC BY 2.0، بذریعہ وکی میڈیا کامنز

خیبر پختونخوا کا بنوں ڈویژن، جہاں ملک بھر میں رواں سال اب تک رپورٹ ہونے والے پانچ پولیو کیسز میں سے چار سامنے آئے، صوبے میں وائرس کے خاتمے کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ یہ بات ڈان نے حکام کے حوالے سے 4 اکتوبر کو رپورٹ کی؛ دی نیوز نے بھی 29 ستمبر کو پانچواں کیس بنوں سے رپورٹ ہونے کی خبر دی تھی۔

ایمرجنسی آپریشن سینٹر خیبر پختونخوا کے مطابق 27 ستمبر کو ختم ہونے والی چوتھی ملک گیر ہفتہ وار مہم میں مجموعی طور پر 99 فیصد ہدف حاصل ہوا، تاہم بنوں میں 86 فیصد بچوں تک ہی رسائی ممکن ہو سکی۔ بنوں میں ویکسین سے انکار کے 4,701 کیس سامنے آئے، جو پشاور (5,635) کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں؛ گھروں پر عدم دستیابی کے باعث پشاور میں 10,558 اور بنوں میں 5,873 بچے رہ گئے۔

پوری مہم میں رہ جانے والے بچوں کی تعداد 83,989 رہی، جو گزشتہ مہم کے تقریباً برابر ہے، جبکہ انکار کے مجموعی کیس 20,167 رہے، جو پچھلی مہم کے 19,605 سے زیادہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق خطرات کے باوجود ویکسینیٹرز متاثرہ اضلاع میں پہنچ رہے ہیں، مگر کچھ علاقوں خصوصاً جنوبی علاقوں میں قطرے پلوانے سے ہچکچاہٹ پائی جاتی ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی حالیہ رپورٹ کے حوالے سے ڈان نے بتایا کہ پاکستان میں 2026 میں پولیو کے پانچ کیس رپورٹ ہوئے (چار خیبر پختونخوا اور ایک سندھ)، جو 2025 کے 31 اور 2024 کے 74 کیسز سے نمایاں کم ہیں۔ رپورٹ کے مطابق وائرس کی مسلسل مقامی منتقلی تین بڑے خطوں میں مرتکز ہے: افغانستان کا جنوبی علاقہ، جنوبی خیبر پختونخوا (بنوں ڈویژن) اور کراچی؛ افغانستان میں رواں سال 36 کیس سامنے آئے ہیں جبکہ 2025 میں 21 تھے۔

حکام کے مطابق ملک بھر میں ہدف بنائے گئے تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں میں سے خیبر پختونخوا کے 37 اضلاع میں 73 لاکھ بچے شامل تھے، اور مہم افغانستان کے ساتھ ہم آہنگ رکھی گئی تاکہ سرحد پار کرنے والے بچوں کو بھی قطرے مل سکیں۔ حکام نے بتایا کہ پولیو ورکرز کی اجرت میں حال ہی میں 30 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

ذرائع: ڈان (4 اکتوبر)، دی نیوز (29 ستمبر)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔