جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین

مکہ دفاعی اتحاد کا ریاض اجلاس: پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا مملکت میں فوجی دستوں کی تیز تعیناتی پر اتفاق

دفتر خارجہ کے مطابق تینوں ممالک کی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی نے اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عملی پیش رفت کا فیصلہ کیا ہے۔
ریاض شہر کی فائل تصویر، پس منظر میں بلند عمارتیں
علامتی تصویر: B.alotaby، CC BY-SA 4.0، بذریعہ وکی میڈیا کامنز

دفتر خارجہ نے پیر کو بتایا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے ریاض میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی (ایس پی ڈی سی) کے ہنگامی اجلاس میں طے کیا ہے کہ مملکت کے اندر متفقہ فوجی دستے اور صلاحیتیں تیزی سے تعینات کی جائیں گی۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق اجلاس سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات اور حالیہ پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ کمیٹی نے اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عملدرآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تحت منظور شدہ انتظامات اور رکن ممالک کے قومی قوانین کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں گے، تاکہ تیاری، فوجی ہم آہنگی اور خطرات کا مقابلہ کرنے کی مشترکہ صلاحیت میں اضافہ ہو۔ تینوں ممالک نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوشش اور سعودی عرب کے شہروں، شہری و معاشی تنصیبات پر جاری حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔

پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف شامل تھے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور ترکیہ نے سعودی مسلح افواج کی چوکسی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کو بھی سراہا۔

ڈان کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے اتوار کو حوثیوں کے زیر قبضہ علاقے واپس لینے کے لیے بڑی فوجی مہم کا اعلان کیا، جبکہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ 7 اگست کو طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ کمیٹی کا پہلا اجلاس 31 اگست کو استنبول میں ہوا تھا۔

ذرائع: ڈان

ماخذ: ڈان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔