جیو نیوز کے مطابق پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کے اسلام آباد لانگ مارچ کو روکنے کے لیے ہونے والے حکومتی اور اپوزیشن مذاکرات اتوار کی صبح تقریباً تین بجے بے نتیجہ ختم ہو گئے۔ چار بار مسودے تیار ہونے کے باوجود خیبر پختونخوا میں انسداد دہشت گردی تعاون اور قید پی ٹی آئی بانی عمران خان تک رسائی پر بنیادی اختلافات برقرار رہے۔ ذیل میں ہر فریق کا مؤقف انہی کے الفاظ کے مفہوم میں پیش کیا جا رہا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی: ان کے بقول معاہدے کا مسودہ تیار تھا اور 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو چکا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مسودے میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صوبائی حکومت آخری مرحلے میں اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی اور ناکامی کی ذمہ داری وزیراعلیٰ پر ہے۔
پیپلز پارٹی کی شیری رحمٰن: انہوں نے کہا کہ مذاکرات اس وقت ٹوٹے جب خیبر پختونخوا حکومت نے انسداد دہشت گردی تعاون کے پہلے سے طے شدہ مسودے پر دستخط سے انکار کیا۔ ان کے مطابق حکومتی ٹیم نے بار بار صوبائی نمائندگی کا مطالبہ کیا تھا۔
پی ٹی آئی کے سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر: سلمان اکرم راجہ کے مطابق اختلاف اس پر تھا کہ صوبے میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں وفاق اور صوبے کے باہمی اتفاق اور صوبائی اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں سے مشاورت پر مبنی ہوں، جبکہ حکومتی ٹیم کا اصرار تھا کہ یک طرفہ اقدامات کی ذمہ داری صوبائی حکومت قبول کرے۔ اسد قیصر نے کہا کہ ان کا واحد مطالبہ عمران خان تک سیاسی قیادت کی رسائی تھا، جسے معاہدے میں شامل نہیں کیا گیا۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس: ان کے مطابق ملاقات اور ذاتی معالج تک رسائی پر اختلاف رہا؛ حکومت نے کہا کہ فی الحال ملاقات کرانے کی پوزیشن میں نہیں، البتہ بہنوں اور وکلا کی ملاقاتیں شروع ہو سکتی ہیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ لانگ مارچ جاری رہے گا مگر اسے ایمرجنسی یا گورنر راج کے ذریعے نہ روکا جائے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا اور اگلے دور کی کوئی تاریخ طے نہیں۔
ڈان نے اپنے اداریے میں، جو رائے پر مبنی تحریر ہے، دونوں فریقوں سے کہا ہے کہ بات چیت کے حل کے قریب پہنچ جانے کے پیش نظر انہیں دوبارہ مذاکرات کا موقع دینا چاہیے۔
ذرائع: جیو نیوز، ڈان (اداریہ)