بدھ، 28 اکتوبر 2026

افغانستان میں شدید بھوک اور غذائیت کی کمی ریکارڈ سطح پر، ایک کروڑ 59 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار

آئی پی سی کی رپورٹ کے مطابق سردیوں میں متاثرین کی تعداد بڑھ کر ایک کروڑ 92 لاکھ ہو سکتی ہے؛ ڈبلیو ایف پی اور ایف اے او نے فوری فنڈنگ کی اپیل کی۔
شمالی افغانستان کے ایک گاؤں میں آٹا اور چاول جیسی بنیادی خوراک کی تقسیم کی پرانی تصویر (فائل/علامتی)
تصویر: Lt. Col. Tim Franklin (DVIDS) / Wikimedia Commons (Public domain)

کابل: بھوک کی عالمی نگرانی کرنے والے ادارے انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (آئی پی سی) کی جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں شدید غذائیت کی کمی اور بھوک اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک کروڑ 59 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں اور آنے والے مہینوں میں صورتِ حال مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔

آئی پی سی غذائی تحفظ کی صورتِ حال کو پانچ مراحل میں تقسیم کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست سے اکتوبر کے عرصے میں شدید غذائیت کی کمی ریکارڈ سطح پر رہی اور بائیس فیصد سے زائد آبادی بحران یا اس سے بدتر یعنی تیسرے یا اس سے اوپر کے مرحلے میں ہے، جبکہ چونتیس لاکھ افراد چوتھے یعنی ہنگامی مرحلے کی صورتِ حال سے دوچار ہیں۔ معاشی دباؤ ملک بھر میں گھرانوں کو متاثر کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق موجودہ ابتری کی بڑی وجوہات میں بیماریوں کا پھیلاؤ، پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی ناکافی سہولتیں شامل ہیں، جبکہ غذائیت کی خدمات تک رسائی میں نمایاں کمی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اگرچہ بہتر بارشوں اور زرعی پیداوار میں اضافے سے غذا کی دستیابی میں مدد ملی، لیکن انسانی امداد میں کمی گھرانوں کی مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت کو کمزور کر رہی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ نومبر سے اپریل تک سردیوں کے قحط کے موسم میں تقریباً ایک کروڑ 92 لاکھ افراد کے تیسرے یا اس سے اوپر کے مرحلے میں جانے کا امکان ہے، جن میں پچاس لاکھ افراد ہنگامی غذائی عدم تحفظ کی کیفیت میں ہوں گے۔ اسی طرح جنوری سے دسمبر 2027 کے دوران پانچ سال سے کم عمر کے چالیس لاکھ چار ہزار بچوں کو شدید غذائیت کی کمی کے علاج کی ضرورت پیش آنے کا تخمینہ ہے۔

اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور خوراک و زراعت کے ادارے (ایف اے او) نے جمعرات کو ایک مشترکہ پیغام میں غذائی امداد، ہنگامی زرعی معاونت اور غذائیت کی کمی کی روک تھام و علاج کے لیے فوری فنڈز فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے کنٹری ڈائریکٹر جان ایلیف نے کہا کہ اب بھی اقدام کا موقع موجود ہے مگر یہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے، اور بروقت مدد کے بغیر بہت سے خاندانوں کو ناممکن فیصلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایف اے او کے نمائندے رچرڈ ٹرینچرڈ نے کہا کہ خاندانوں کو اس سردی میں مدد کے ساتھ ساتھ ایسے مواقع بھی چاہئیں جن سے وہ قابلِ اعتماد ذریعہ معاش حاصل کر سکیں اور آئندہ کسی جھٹکے کا مقابلہ کر سکیں۔

دوسری جانب افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے معاونتی مشن (یوناما) نے جولائی سے ستمبر کے دوران بنیادی انسانی حقوق کی صورتِ حال پر ایک الگ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق طالبان حکام کی پابندیوں کا سب سے زیادہ اثر خواتین اور لڑکیوں پر پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لڑکیوں کی چھٹی جماعت کے بعد باضابطہ تعلیم پر پابندی برقرار ہے، جبکہ مشن نے امر بالمعروف کے اہلکاروں کی جانب سے بدسلوکی کے کم از کم 443 کیسز اور 97 واقعات ریکارڈ کیے۔

ذرائع: اے ایف پی بذریعہ ڈان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔