جمعرات، 29 اکتوبر 2026

کراچی: ریڈ لائن منصوبے کی کھدائی کے دوران گیس پائپ لائن متاثر، کئی علاقوں میں سپلائی معطل رہی

یونیورسٹی روڈ پر ہائی پریشر پائپ لائن متاثر ہونے سے گلشن اقبال، گارڈن، صدر اور برنس روڈ سمیت کئی علاقوں میں دوپہر کے اوقات میں گیس بند رہی۔
کراچی میں سوئی سدرن گیس کمپنی کا صدر دفتر (فائل تصویر)
تصویر: Ahsanullah2015 / Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0)

کراچی: شہر قائد کی یونیورسٹی روڈ پر بس ریپڈ ٹرانزٹ ریڈ لائن منصوبے کی کھدائی کے دوران ہفتے کو ایک ہائی پریشر گیس پائپ لائن متاثر ہونے سے کئی علاقوں میں دوپہر کے کھانے کے اوقات میں گیس کی فراہمی معطل رہی۔ متاثرہ علاقوں میں گلشن اقبال، مزارِ قائد کے اطراف، گارڈن، صدر اور برنس روڈ کے علاوہ دیگر محلے شامل تھے۔

سوئی سدرن گیس کمپنی کی ترجمان نے ڈان کو بتایا کہ یونیورسٹی روڈ پر گلشن اقبال ٹیلی فون ایکسچینج کے قریب ہائی پریشر پائپ لائن دوپہر تقریباً ایک بجے بی آر ٹی کی تعمیراتی سرگرمی کے دوران متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور مرمت کا کام شام پانچ بجے تک مکمل کر کے گیس کی فراہمی بحال کر دی گئی۔

متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا کہنا تھا کہ اچانک گیس بند ہونے سے انہیں خاصی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یہ کھانا پکانے کا وقت تھا۔ کئی گھرانوں کو کھانا باہر سے منگوانا پڑا جس کے باعث صدر اور گارڈن کے ہوٹلوں پر رش دیکھا گیا۔ صارفین نے شکایت کی کہ اعلان کردہ وقت پر بحالی کے بعد بھی کئی گھنٹوں تک گیس کا پریشر کم رہا۔

اس سے قبل ایس ایس جی سی نے اعلان کیا تھا کہ شیر شاہ کے علاقے میں 24 انچ قطر کی مین لائن پر شیڈول مرمت کے باعث ہفتے کی رات دس بجے سے اتوار صبح نو بجے تک کام کیا جائے گا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق کمپنی نے خبردار کیا تھا کہ کام میں تاخیر کی صورت میں بلدیہ ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن کے متعدد علاقوں اور سائٹ انڈسٹریل ایریا میں گیس کا دباؤ کم رہ سکتا ہے۔

ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ ملیر ہالٹ سے یونیورسٹی روڈ کے راستے نمائش تک تقریباً 27 کلومیٹر طویل ہے۔ ڈان کے مطابق یہ منصوبہ 2017 میں تقریباً 79 ارب روپے کی ابتدائی لاگت سے شروع کیا گیا تھا، جو تاخیر کے باعث بڑھ کر 103 ارب روپے ہو چکی ہے۔ اس منصوبے کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔

2022 کے اوائل میں کام شروع ہونے کے بعد منصوبے کی تکمیل کی تاریخ 2023 سے بڑھا کر 2024 اور پھر 2026 کے اختتام تک کر دی گئی۔ رواں سال اپریل میں سندھ حکومت نے تاخیر کی بنیاد پر تعمیراتی ٹھیکہ منسوخ کیا تھا، جس کے بعد فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے یونیورسٹی روڈ پر ایک حصے کا کام دوبارہ شروع کیا۔ حکام تاخیر کی وجوہات میں ٹھیکیداروں سے تنازعات، زمین کی حصولی اور یوٹیلیٹی لائنوں کی منتقلی جیسے مسائل بتاتے رہے ہیں۔

یونیورسٹی روڈ کے کھلے ہونے اور سست رفتار تعمیرات کے باعث روزانہ ہزاروں مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ رواں سال اپریل میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے یونیورسٹی روڈ پر تاخیر پر معذرت کرتے ہوئے مخلوط ٹریفک کی لینز تین ماہ میں بحال کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، جبکہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا تھا کہ وزیراعلیٰ نے نالے اور ٹریفک کوریڈور کا کام نوے دن میں مکمل کرنے کی مہلت دی ہے۔

ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، ڈان (ریڈ لائن منصوبہ)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔