وفاقی حکومت نے بدھ کی رات پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کیا ہے، جن کے تحت پیٹرول کی قیمت میں 1.85 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.75 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق 29 اکتوبر یعنی جمعرات سے پیٹرول 377.91 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 399.82 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔ یوں ڈیزل کی قیمت چار سو روپے کی حد کے قریب پہنچ گئی ہے۔
ڈان کے مطابق حکومت اس وقت پیٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیاں وصول کر رہی ہے۔ گزشتہ تین دنوں کی قیمتوں پر نظر ڈالی جائے تو 26 اکتوبر کی رات پیٹرول 1.54 روپے اضافے سے 379.25 روپے اور ڈیزل 2.16 روپے اضافے سے 395.82 روپے ہوا تھا۔ اگلی رات پیٹرول 3.19 روپے سستا ہو کر 376.06 روپے رہ گیا جبکہ ڈیزل 2.25 روپے مہنگا ہو کر 398.07 روپے ہو گیا۔
منگل کو جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ دونوں فریقوں نے جماعتِ اسلامی اور حکومت پر مشتمل مشترکہ کمیٹی بنانے پر اتفاق کیا جو جاری فیول ریلیف اسکیم کا دائرہ بڑھانے پر غور کرے گی۔ یہ اسکیم 17 ستمبر سے موٹر سائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان کو دی جا رہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اگر نومبر کے وسط تک کوئی بڑا ریلیف نہ ملا تو ان کی جماعت پیٹرولیم لیوی کے خلاف اسلام آباد کی جانب مارچ کرے گی۔
ڈان کے مطابق ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی۔ 28 فروری کو امریکا اور ایران کی جنگ شروع ہونے سے پہلے یہ 281 روپے فی لیٹر تھی۔ پیٹرول مارچ کے پہلے ہفتے میں 266 روپے سے بڑھنا شروع ہوا اور 3 اپریل کو 458.41 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچا۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے پیشِ نظر حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات دوبارہ نافذ کیے ہیں، جن کے تحت مارکیٹیں رات 9 بجے بند کرنا لازم ہے اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے کوٹے میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کمی کی گئی ہے۔ 13 ستمبر کو وزیرِ اعظم نے موٹر سائیکل، آٹو رکشہ اور 800 سی سی تک گاڑیاں استعمال کرنے والوں کے لیے ریلیف اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ 17 جولائی کو وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان نئی کشیدگی کے باعث قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر ہوگا، اور یہ ذمہ داری اوگرا کو سونپی گئی۔
پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت متوسط اور نچلے متوسط طبقے کو متاثر کرتی ہے۔ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ، بجلی گھروں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کے اثرات پوری معیشت پر پڑتے ہیں۔ پیٹرول اور ڈیزل کی ماہانہ فروخت تقریباً 7 سے 8 لاکھ ٹن ہے، جبکہ مٹی کے تیل کی ماہانہ طلب صرف 10 ہزار ٹن ہے۔
ذرائع: ڈان، ڈان (27 اکتوبر کی قیمتیں)، ڈان (26 اکتوبر کی قیمتیں)