ماسکو: روس کے دوسرے بڑے شہر سینٹ پیٹرزبرگ پر ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ڈرون حملوں میں تیل کی دو تنصیبات میں آگ لگ گئی، جبکہ کم از کم ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔ شہر کے گورنر الیکزینڈر بیگلوف کے مطابق سینٹ پیٹرزبرگ آئل ٹرمینل اور روچی آئل ڈپو میں لگنے والی آگ بجھانے کا کام جاری ہے۔
گورنر نے بتایا کہ حملوں میں بارہ رہائشی عمارتوں اور دو مکانوں کو بھی نقصان پہنچا اور شہر میں موبائل انٹرنیٹ میں خلل آ سکتا ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ کا پولکووو ایئرپورٹ بھی عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق ایک ڈرون روس کی بڑی آن لائن کمپنی اوزون کے لاجسٹکس مرکز پر گرا جس سے آگ لگ گئی، تاہم کمپنی کے مطابق عملے کو بروقت نکال لیا گیا اور کوئی زخمی نہیں ہوا۔
سوشل میڈیا کمپنی وی کے نے تصدیق کی کہ اس کے علاقائی ڈیٹا سینٹر کو بھی ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، تاہم کمپنی کا کہنا تھا کہ صبح کے وقت صارفین کی جانب سے خلل کی شکایات کے بعد اس کی خدمات معمول کے مطابق دستیاب ہیں۔ روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اتوار کی صبح تک روسی حدود پر ایک ہزار سے زائد یوکرینی ڈرون مار گرائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق یوکرین نے ان حملوں پر ابھی کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ گزشتہ ہفتے روس نے یوکرین پر تقریباً 2,700 ڈرون، 1,700 فضائی بم اور 66 میزائل داغے جن کا زیادہ تر ہدف توانائی تنصیبات تھیں۔ ان کے مطابق ہزاروں افراد اب بھی بجلی سے محروم ہیں۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے توانائی تنصیبات پر جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے روس یوکرین کے توانائی شعبے کو 76 مرتبہ نشانہ بنا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی ٹرمپ کے مذاکرات کاروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے بات ہوئی ہے جن کی ٹیمیں آئندہ سفارتی اقدامات کی تیاری کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد یوکرین نے تین دن تک روسی تیل تنصیبات پر حملے روکے رکھے تھے جو اس ہفتے دوبارہ شروع کر دیے گئے۔ یوکرین کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ماسکو کے آمدنی کے بنیادی ذریعے کو کمزور کرنا ہے، جبکہ روس کا کہنا ہے کہ وہ صرف یوکرینی فوج کے زیرِ استعمال تنصیبات کو نشانہ بناتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے حملوں کی بحالی پر تنقید کرتے ہوئے جنگ بندی پر زور دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سینٹ پیٹرزبرگ کے تیل ٹرمینل پر اس سے پہلے جولائی میں حملہ ہوا تھا، جبکہ یوکرین کی سرحد کے قریب روسی علاقے زیادہ کثرت سے نشانہ بنتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق اکتوبر کے پہلے دو ہفتے یوکرینی شہریوں کے لیے کئی برسوں میں سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوئے، اور سردیوں سے قبل دونوں فریق ایک دوسرے کی توانائی تنصیبات پر حملے تیز کر رہے ہیں۔
ذرائع: دی نیشن (بین الاقوامی خبر ایجنسی)، ایکسپریس ٹریبیون (روس پر پابندیوں میں نرمی)