جمعرات، 29 اکتوبر 2026

انگور اڈہ واقعہ: پاکستان نے افغان دعوے مسترد کر دیے، وزارتِ اطلاعات نے طالبان حکومت کے بیان کو من گھڑت قرار دے دیا

وزارتِ اطلاعات نے انگور اڈہ پر فائرنگ سے متعلق افغان وزارتِ دفاع کے دعوے مسترد کر دیے؛ ایک شخص جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے، فریقین کے دعوے متضاد ہیں۔
طورخم گیٹ پر پاک افغان سرحدی گزرگاہ کی فائل تصویر
علامتی فائل فوٹو؛ یہ تصویر انگور اڈہ واقعے کی نہیں ہے۔ تصویر: Staff Sgt. Ryan Matson / US Army (DVIDS) / Wikimedia Commons (Public domain)

پاکستان نے جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق افغانستان کی وزارتِ دفاع کے بیان کو مسترد کر دیا ہے۔ وزارتِ اطلاعات و نشریات نے بدھ کے روز جاری بیان میں افغان دعوے کو جھوٹ پر مبنی من گھڑت کہانی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ سرحد پار سے فائرنگ اور مارٹر گولہ باری کی ابتدا افغان طالبان حکومت کی فورسز نے کی۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق منگل کو افغان جانب سے پاکستانی سرحدی چوکیوں اور رہائشی علاقوں پر فائرنگ کی گئی۔ اس واقعے میں ایک مقامی شخص جاں بحق جبکہ ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ افغان حدود میں موجود چوکیوں سے چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں کے ذریعے کی گئی، جس کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کی۔

دوسری جانب افغانستان کی وزارتِ دفاع کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی فوجی اہلکاروں نے بلاجواز ڈرونز کے ذریعے پکتیکا صوبے میں انگور اڈہ بازار اور کمشنر کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ افغان بیان کے مطابق جواب میں افغان فورسز نے قریبی پاکستانی فوجی اڈے اور چوکیوں پر جوابی حملے کیے۔

پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیکنگ اکاؤنٹ نے ردعمل میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ افغان فورسز نے پاکستانی حدود میں غیر مسلح شہریوں پر بلا اشتعال فائرنگ اور مارٹر گولہ باری کی۔ بیان کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے بھرپور جواب سے افغان جانب کو بھاری جانی اور مادی نقصان پہنچا اور سات چوکیاں تباہ ہوئیں۔ وزارت نے افغان طالبان کے ترجمانوں کے بیانات کو بے وقعت قرار دیتے ہوئے یہ الزام بھی عائد کیا کہ یہ کارروائیاں بھارت کی ہدایات پر کی جا رہی ہیں۔

اسی روز خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے افغان طالبان کو مخاطب کر کے کہا کہ کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے، پاکستان اپنے شہریوں پر حملوں اور اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔

انگور اڈہ پاک افغان سرحد کے اہم اور حساس ترین راستوں میں شمار ہوتا ہے، جو تجارت کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان عوامی آمد و رفت کا بھی ایک بڑا مقام ہے۔ ڈان کے مطابق افغان جانب سے ایسی خلاف ورزیاں اب معمول بن چکی ہیں۔

حالیہ مہینوں میں دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کے مطابق 26 فروری کی رات “آپریشن غضب للحق” افغان طالبان کی بلا اشتعال سرحد پار فائرنگ کے جواب میں شروع کیا گیا تھا۔ 21 ستمبر کو خیبر پختونخوا میں بڑے دہشت گرد حملوں کے بعد سرحدی علاقے میں فضائی کارروائی کی گئی، جس میں حکومت کے مطابق 28 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔

دفترِ خارجہ کچھ عرصہ قبل واضح کر چکا ہے کہ افغانستان کے ساتھ مذاکرات غیر مشروط نہیں ہو سکتے، تاہم اسلام آباد دوست ممالک کی سنجیدہ کوششوں کا خیرمقدم کرے گا اور بات چیت سے گریز کا تاثر درست نہیں۔ فی الحال دونوں جانب کے دعوے ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور جانی نقصان کے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق باقی ہے۔

ذرائع: ڈان، ڈان (جنوبی وزیرستان فائرنگ)

ماخذ: ڈان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔