جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

سائبر کرائم شکایت آن لائن کیسے درج کریں؟ آن لائن فراڈ کے بعد این سی سی آئی اے میں رپورٹ کا مکمل طریقہ

آن لائن فراڈ، ہیکنگ یا بلیک میلنگ کا شکار ہوں تو پہلے بینک کو اطلاع دیں، ثبوت محفوظ کریں اور پھر این سی سی آئی اے کے سرکاری پورٹل پر شکایت درج کرائیں۔ مرحلہ وار رہنمائی اور عام غلطیاں۔
لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر ٹائپ کرتا ہوا ہاتھ
علامتی تصویر: Pixel.la Free Stock Photos، CC0، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

کسی نے جعلی انعام کا جھانسہ دے کر پیسے ہتھیا لیے، سوشل میڈیا پر کسی نے آپ کی تصاویر کا غلط استعمال شروع کر دیا، یا آپ کا اکاؤنٹ ہیک کر کے رابطوں سے رقم مانگی گئی۔ ایسے حالات میں سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ شکایت کہاں اور کیسے درج کرائیں؟ اس مضمون میں پاکستان میں سائبر کرائم شکایت آن لائن درج کرنے کا طریقہ، ضروری ثبوت، اور شکایت سے پہلے کیے جانے والے فوری اقدامات تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔

نوٹ: سرکاری ویب سائٹس کے پتے اور ہیلپ لائن نمبر وقتاً فوقتاً تبدیل ہو سکتے ہیں۔ شکایت درج کرنے سے پہلے متعلقہ ادارے کی سرکاری ویب سائٹ سے تازہ معلومات کی تصدیق ضرور کریں۔

سائبر کرائم کی شکایت اب کون سنتا ہے؟

ماضی میں پاکستان میں آن لائن جرائم کی شکایات وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا سائبر کرائم ونگ سنتا تھا۔ اب یہ ذمہ داری نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے پاس ہے، جو الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون (پیکا 2016) کے تحت قائم کی گئی اور جس نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم شعبے کی جگہ لی۔ ادارے کی سرکاری ویب سائٹ nccia.gov.pk ہے۔

اس لیے اگر آپ کو کہیں پرانی معلومات ملیں جن میں ایف آئی اے سائبر کرائم کا حوالہ ہو، تو یاد رکھیں کہ اب آن لائن فراڈ، ہیکنگ، ہراسانی اور بلیک میلنگ جیسے معاملات کے لیے این سی سی آئی اے سے رجوع کیا جاتا ہے۔

کن جرائم کی شکایت کی جا سکتی ہے؟

عام طور پر درج ذیل نوعیت کے معاملات سائبر کرائم کے زمرے میں آتے ہیں:

  • آن لائن مالی فراڈ: جعلی انعام، جعلی سرمایہ کاری اسکیم، آن لائن خریداری میں دھوکہ، یا بینک یا موبائل والیٹ کے نام پر معلومات حاصل کر کے رقم نکالنا۔
  • اکاؤنٹ ہیکنگ: واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام یا ای میل اکاؤنٹ پر ناجائز قبضہ۔
  • ہراسانی اور بلیک میلنگ: دھمکی آمیز پیغامات، ذاتی تصاویر یا ویڈیوز پھیلانے کی دھمکی۔
  • شناخت کی چوری: کسی اور کے نام اور تصویر سے جعلی اکاؤنٹ بنانا۔
  • ہتک عزت اور جھوٹا مواد: کسی فرد کے خلاف آن لائن جھوٹی اور نقصان دہ معلومات پھیلانا۔

اگر کسی کی جان کو فوری خطرہ ہو تو آن لائن شکایت کا انتظار نہ کریں، فوراً 15 پر پولیس سے رابطہ کریں۔

شکایت سے پہلے یہ فوری اقدامات کریں

شکایت درج کرانا ضروری ہے، مگر کچھ کام ایسے ہیں جو شکایت سے بھی پہلے کرنے چاہئیں کیونکہ ان میں تاخیر سے نقصان بڑھ سکتا ہے۔

1. رقم گئی ہے تو پہلے بینک یا والیٹ کو اطلاع دیں

اگر آپ کے اکاؤنٹ سے رقم منتقل ہوئی ہے تو فوراً اپنے بینک یا موبائل والیٹ کی ہیلپ لائن پر کال کریں، ٹرانزیکشن کی تفصیل بتائیں اور اکاؤنٹ یا کارڈ عارضی طور پر بند کرانے کی درخواست کریں۔ شکایت درج ہونے سے رقم خود بخود نہیں رکتی، اس لیے بینک کو بروقت اطلاع دینا الگ اور زیادہ فوری قدم ہے۔ اپنے بینک کا ہیلپ لائن نمبر ہمیشہ کارڈ کی پشت یا بینک کی سرکاری ویب سائٹ سے لیں۔

2. ثبوت محفوظ کریں

دھوکے باز اکثر چیٹ، پروفائل یا پیغامات حذف کر دیتے ہیں۔ اس لیے فوراً یہ چیزیں محفوظ کر لیں:

  • پوری گفتگو کے اسکرین شاٹس، جن میں تاریخ اور وقت نظر آ رہا ہو۔
  • ملزم کا فون نمبر، سوشل میڈیا پروفائل کا لنک اور یوزر نیم۔
  • رقم کی منتقلی کی رسید، ٹرانزیکشن آئی ڈی اور جس اکاؤنٹ میں رقم گئی اس کی تفصیل۔
  • متعلقہ ای میلز، ویب سائٹ کے لنکس اور اشتہارات۔
  • اگر وائس نوٹ یا کال ریکارڈنگ ہو تو وہ بھی۔

تمام ثبوت ایک فولڈر میں جمع کریں اور اپنے ای میل یا کسی محفوظ جگہ پر اس کی نقل رکھیں۔

3. متاثرہ اکاؤنٹس محفوظ کریں

جس اکاؤنٹ کا غلط استعمال ہوا ہو اس کا پاس ورڈ بدلیں، ٹو اسٹیپ ویریفکیشن آن کریں اور اپنے رابطوں کو خبردار کریں۔ واٹس ایپ کے لیے تفصیلی طریقہ ہمارے مضمون واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو کیا کریں میں موجود ہے۔

سائبر کرائم شکایت آن لائن کیسے درج کریں؟ مرحلہ وار

این سی سی آئی اے کا آن لائن شکایت پورٹل complaint.nccia.gov.pk کے پتے پر دستیاب ہے۔ پورٹل کی ترتیب وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے، تاہم عام طور پر یہ مراحل ہوتے ہیں:

  1. پورٹل کھولیں: براؤزر میں سرکاری پتہ خود ٹائپ کریں۔ کسی پیغام یا اشتہار میں آئے لنک پر کلک نہ کریں کیونکہ جعلی ویب سائٹس بھی بنائی جاتی ہیں۔
  2. ذاتی معلومات درج کریں: نام، شناختی کارڈ نمبر، فون نمبر، ای میل اور پتہ درست لکھیں تاکہ ادارہ آپ سے رابطہ کر سکے۔
  3. جرم کی نوعیت منتخب کریں: مالی فراڈ، ہیکنگ، ہراسانی یا جو بھی زمرہ آپ کے معاملے سے مطابقت رکھتا ہو۔
  4. واقعے کی تفصیل لکھیں: مختصر اور واضح انداز میں بتائیں کہ کیا ہوا، کب ہوا، کتنی رقم گئی اور ملزم سے کس ذریعے سے رابطہ ہوا۔ تاریخیں اور وقت ترتیب سے لکھیں۔
  5. ثبوت منسلک کریں: اسکرین شاٹس، رسیدیں اور دیگر دستاویزات اپ لوڈ کریں۔
  6. شکایت جمع کرائیں اور نمبر محفوظ کریں: شکایت جمع ہونے کے بعد ملنے والا شکایت نمبر یا ٹریکنگ آئی ڈی سنبھال کر رکھیں۔

مختلف میڈیا رپورٹس میں این سی سی آئی اے کی ہیلپ لائن 1799 بتائی گئی ہے۔ کال کرنے سے پہلے اس نمبر کی سرکاری ویب سائٹ سے تصدیق کر لیں۔

شکایت لکھتے وقت یہ غلطیاں نہ کریں

غلطی بہتر طریقہ
لمبی اور جذباتی تحریر واقعات کو تاریخ وار، مختصر اور حقائق کی بنیاد پر لکھیں۔
ثبوت کے بغیر شکایت کم از کم اسکرین شاٹس اور ملزم کا نمبر یا پروفائل ضرور منسلک کریں۔
ملزم سے بحث جاری رکھنا شکایت کے بعد ملزم سے مزید رابطہ نہ کریں اور نہ ہی مزید رقم دیں۔
"ریکوری ایجنٹ” پر بھروسہ جو لوگ فیس لے کر ڈوبی رقم واپس دلانے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ اکثر خود دوسرا دھوکہ ہوتے ہیں۔

شکایت کے بعد کیا ہوتا ہے؟

شکایت جمع ہونے کے بعد ادارہ ابتدائی جانچ کرتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر آپ کو بیان ریکارڈ کرانے یا اصل ثبوت دکھانے کے لیے قریبی دفتر بلایا جا سکتا ہے۔ اس لیے شکایت میں درج فون نمبر اور ای میل پر رابطہ رکھیں۔ تحقیقات میں لگنے والا وقت معاملے کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے، اور یہ ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ ہر صورت میں رقم واپس مل جائے گی۔ البتہ بروقت شکایت سے دھوکے بازوں کے اکاؤنٹس اور نمبرز کی نشاندہی میں مدد ملتی ہے۔

آن لائن فراڈ سے کیسے بچیں؟

  • کوئی بھی بینک، موبائل کمپنی یا سرکاری ادارہ فون پر او ٹی پی، پن یا پاس ورڈ نہیں مانگتا۔
  • "آپ کا انعام نکلا ہے، پہلے فیس جمع کرائیں” جیسے پیغامات عموماً دھوکہ ہوتے ہیں۔
  • غیر معمولی منافع کا وعدہ کرنے والی سرمایہ کاری اسکیموں سے دور رہیں۔
  • آن لائن خریداری میں معتبر پلیٹ فارمز اور کیش آن ڈیلیوری کو ترجیح دیں۔
  • کسی رشتہ دار کے نام سے رقم کی ہنگامی درخواست آئے تو پہلے ان سے براہِ راست فون پر تصدیق کریں۔
  • موبائل فون خریدتے وقت اس کی قانونی حیثیت جانچنے کے لیے ہمارا مضمون پی ٹی اے موبائل رجسٹریشن چیک دیکھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا سائبر کرائم کی شکایت درج کرانے کی کوئی فیس ہے؟

سرکاری طور پر شکایت درج کرانے کی کوئی فیس نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی شخص شکایت درج کرانے یا جلد کارروائی کے نام پر پیسے مانگے تو ہوشیار رہیں۔

کیا میں کسی اور کی طرف سے شکایت کر سکتا ہوں؟

عام طور پر شکایت متاثرہ فرد خود یا اس کا قانونی نمائندہ کرتا ہے۔ نابالغ یا معمر افراد کے معاملے میں گھر کا کوئی ذمہ دار فرد مدد کر سکتا ہے۔ پورٹل پر دی گئی ہدایات کے مطابق عمل کریں۔

کیا شکایت کے بعد میری رقم واپس مل جائے گی؟

اس کی کوئی ضمانت نہیں۔ رقم کی واپسی کے امکانات اس وقت بہتر ہوتے ہیں جب بینک کو بہت جلد اطلاع دی جائے اور ملزم کا اکاؤنٹ بروقت منجمد ہو سکے۔

کیا جعلی اکاؤنٹ کی شکایت براہِ راست سوشل میڈیا کمپنی کو بھی کر سکتا ہوں؟

جی ہاں۔ فیس بک، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر "Report” کا آپشن موجود ہے۔ پلیٹ فارم کو رپورٹ کرنا اور سرکاری شکایت درج کرانا دونوں الگ الگ اور مفید اقدامات ہیں۔

مجھے دھمکی دی جا رہی ہے، کیا کروں؟

دھمکی دینے والے سے بات چیت بند کریں، اسے رقم نہ دیں، تمام پیغامات محفوظ کریں اور فوراً شکایت درج کرائیں۔ اگر جسمانی خطرہ محسوس ہو تو 15 پر پولیس سے رابطہ کریں۔

خلاصہ

آن لائن فراڈ یا ہراسانی کا شکار ہونے پر شرمندگی یا خوف کی وجہ سے خاموش رہنا دھوکے بازوں کو مزید حوصلہ دیتا ہے۔ رقم گئی ہے تو پہلے بینک کو اطلاع دیں، پھر تمام ثبوت محفوظ کر کے این سی سی آئی اے کے سرکاری پورٹل پر شکایت درج کرائیں اور شکایت نمبر سنبھال کر رکھیں۔ کسی بھی مرحلے پر سرکاری ویب سائٹ کے علاوہ کسی لنک یا "ایجنٹ” پر بھروسہ نہ کریں۔

مزید پڑھیں

ذرائع اور مزید معلومات: نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، این سی سی آئی اے شکایت پورٹل، این سی سی آئی اے: مالیاتی فراڈ، پاک ایرا

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔