نیا یا پرانا موبائل فون خریدنے سے پہلے سب سے اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا یہ فون پی ٹی اے سے منظور شدہ ہے؟ اگر فون رجسٹرڈ نہیں تو کچھ عرصے بعد اس پر پاکستانی سم کام کرنا بند کر سکتی ہے۔ اس مضمون میں ہم آسان زبان میں بتائیں گے کہ پی ٹی اے موبائل رجسٹریشن چیک کرنے کے کون سے سرکاری طریقے ہیں، آئی ایم ای آئی نمبر کہاں سے ملتا ہے، جواب میں آنے والے اسٹیٹس کا کیا مطلب ہے، اور بیرونِ ملک سے لائے گئے فون کے لیے کیا قواعد ہیں۔
یہ معلومات پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ڈیوائس آئیڈینٹیفکیشن، رجسٹریشن اینڈ بلاکنگ سسٹم (ڈربز) کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود سوالات و جوابات پر مبنی ہے۔ ٹیکس اور فیس کی رقوم وقتاً فوقتاً بدلتی رہتی ہیں، اس لیے یہاں کوئی رقم درج نہیں کی گئی۔
پی ٹی اے رجسٹریشن کیوں ضروری ہے؟
پی ٹی اے نے ملک میں اسمگل شدہ، جعلی اور چوری شدہ موبائل فونز کی روک تھام کے لیے ڈربز کا نظام قائم کیا ہے۔ یہ نظام ہر فون کے منفرد آئی ایم ای آئی نمبر کے ذریعے اس کی حیثیت جانچتا ہے۔ جن فونز کے ٹیکس اور ڈیوٹی ادا نہیں کیے گئے، یا جن کا آئی ایم ای آئی نمبر جعلی ہے، ان پر موبائل نیٹ ورک کی سروس بند کی جا سکتی ہے۔ یعنی فون وائی فائی پر تو چلے گا مگر اس میں ڈالی گئی سم سے کال، ایس ایم ایس اور موبائل انٹرنیٹ کام نہیں کرے گا۔
یہی وجہ ہے کہ استعمال شدہ فون خریدتے وقت یہ جانچ اور بھی اہم ہو جاتی ہے، کیونکہ بعد میں پتا چلے کہ فون غیر رجسٹرڈ ہے تو ٹیکس کی ادائیگی کی ذمہ داری عملاً نئے مالک پر آ جاتی ہے۔
آئی ایم ای آئی نمبر کیا ہے اور کہاں ملتا ہے؟
آئی ایم ای آئی (IMEI) پندرہ ہندسوں پر مشتمل ایک منفرد نمبر ہے جو ہر موبائل فون کو دیا جاتا ہے۔ دو سم والے فون میں عام طور پر دو آئی ایم ای آئی نمبر ہوتے ہیں۔ اسے معلوم کرنے کے آسان طریقے یہ ہیں:
- فون کے ڈائل پیڈ پر *#06# ملائیں۔ اسکرین پر آپ کا آئی ایم ای آئی نمبر ظاہر ہو جائے گا۔ پی ٹی اے کی ویب سائٹ پر بھی یہی طریقہ بتایا گیا ہے۔
- فون کی سیٹنگز میں About phone یا General اور پھر About کے حصے میں۔
- فون کے اصل ڈبے پر لگے اسٹیکر پر۔
استعمال شدہ فون خریدتے وقت ڈبے پر لکھا نمبر اور *#06# سے آنے والا نمبر ملا کر دیکھیں۔ اگر دونوں مختلف ہیں تو یہ خطرے کی علامت ہو سکتی ہے۔
پی ٹی اے موبائل رجسٹریشن چیک کرنے کے تین سرکاری طریقے
پی ٹی اے کی ڈربز ویب سائٹ کے مطابق فون کی حیثیت تین طریقوں سے جانچی جا سکتی ہے۔
طریقہ 1: ایس ایم ایس کے ذریعے (8484)
یہ سب سے آسان اور عام طریقہ ہے۔ اپنے موبائل کے میسج باکس میں پندرہ ہندسوں کا آئی ایم ای آئی نمبر لکھیں اور اسے 8484 پر بھیج دیں۔ کچھ ہی دیر میں جوابی پیغام آ جاتا ہے جس میں فون کا برانڈ، ماڈل اور اسٹیٹس درج ہوتا ہے۔ یہ پیغام کسی بھی نیٹ ورک سے بھیجا جا سکتا ہے، اور ضروری نہیں کہ اسی فون سے بھیجا جائے جس کی جانچ کرنی ہے۔
طریقہ 2: ویب سائٹ کے ذریعے
پی ٹی اے کے ڈیوائس ویریفکیشن سسٹم کی ویب سائٹ dvs.pta.gov.pk کھولیں، آئی ایم ای آئی نمبر درج کریں اور تصدیق کریں۔ اسکرین پر فون کی حیثیت ظاہر ہو جائے گی۔ یہ طریقہ اس وقت مفید ہے جب آپ کمپیوٹر پر ہوں یا ایک سے زیادہ فونز جانچنے ہوں۔
طریقہ 3: ڈی وی ایس موبائل ایپ کے ذریعے
پی ٹی اے کی ڈی وی ایس (Device Verification System) اینڈرائیڈ ایپ بھی دستیاب ہے۔ ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے وقت یقینی بنائیں کہ وہ پی ٹی اے کی جانب سے شائع کردہ ہو، کیونکہ ایپ اسٹور پر اسی نام سے ملتی جلتی غیر سرکاری ایپس بھی موجود ہوتی ہیں۔
جواب میں آنے والے اسٹیٹس کا مطلب کیا ہے؟
ڈربز کی سرکاری وضاحت کے مطابق جوابی پیغام میں عام طور پر یہ چار میں سے کوئی ایک حیثیت بتائی جاتی ہے:
| اسٹیٹس | مطلب | آپ کو کیا کرنا چاہیے |
|---|---|---|
| Compliant | فون پی ٹی اے سے منظور شدہ یا رجسٹرڈ ہے۔ | کوئی اضافی کارروائی درکار نہیں۔ |
| Valid / GSMA Valid | فون کا آئی ایم ای آئی درست ہے مگر اسے رجسٹر کرانا باقی ہے۔ | مقررہ مدت کے اندر رجسٹریشن اور ٹیکس کی ادائیگی کریں۔ پی ٹی اے کے مطابق یہ مدت 60 دن ہے۔ |
| Non-Compliant | فون کا آئی ایم ای آئی معیار کے مطابق نہیں اور اسے بلاک کیا جا سکتا ہے۔ | ایسا فون خریدنے سے گریز کریں۔ |
| Blocked / Stolen | فون چوری، گمشدگی یا غلط استعمال کی بنیاد پر بلاک ہے۔ | ایسا فون ہرگز نہ خریدیں اور اگر یہ آپ کا ہے تو متعلقہ ادارے سے رجوع کریں۔ |
بیرونِ ملک سے لایا گیا فون: کیا قواعد ہیں؟
اگر آپ یا آپ کا کوئی عزیز بیرونِ ملک سے فون لایا ہے تو اس کے لیے الگ قواعد ہیں۔ پی ٹی اے کی ڈربز ویب سائٹ کے مطابق پاکستان آنے والے غیر ملکی مسافروں کو آمد کی تاریخ سے 120 دن کی مدت دی جاتی ہے، جبکہ دیگر صورتوں میں سم لگانے کے بعد قابلِ اطلاق ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی ادا کرنا ہوتی ہے۔
عملی طور پر اس عمل میں عام طور پر یہ مراحل شامل ہوتے ہیں:
- فون میں پاکستانی سم لگائیں۔ کچھ عرصے بعد آپ کو پی ٹی اے کی جانب سے رجسٹریشن کا پیغام موصول ہو سکتا ہے۔
- پی ٹی اے کے ڈربز پورٹل پر اپنے شناختی کارڈ یا پاسپورٹ کے ذریعے درخواست دیں۔
- سسٹم آپ کو ٹیکس اور ڈیوٹی کی رقم کے ساتھ ادائیگی کا کوڈ (پی ایس آئی ڈی) جاری کرتا ہے۔
- یہ رقم کسی بینک یا آن لائن بینکنگ کے ذریعے جمع کرائیں۔
- ادائیگی کے بعد 8484 پر آئی ایم ای آئی بھیج کر تصدیق کر لیں کہ اسٹیٹس Compliant ہو گیا ہے۔
ٹیکس کی رقم فون کے ماڈل، قیمت اور حکومتی پالیسی کے مطابق بدلتی رہتی ہے، اس لیے ادائیگی سے پہلے پورٹل پر دکھائی جانے والی رقم ہی کو حتمی سمجھیں اور کسی ایجنٹ کو اضافی پیسے نہ دیں۔
استعمال شدہ فون خریدتے وقت یہ احتیاط ضرور کریں
- دکاندار کی بات پر بھروسہ کرنے کے بجائے خود 8484 پر آئی ایم ای آئی بھیج کر جانچ کریں۔
- دو سم والے فون کے دونوں آئی ایم ای آئی نمبر الگ الگ چیک کریں۔
- "کٹ” یا "پیچ” کیے گئے فونز سے گریز کریں، یعنی وہ فون جن کا آئی ایم ای آئی سافٹ ویئر کے ذریعے بدلا گیا ہو۔ یہ بعد میں بلاک ہو سکتے ہیں۔
- خرید و فروخت کی تحریری رسید لیں جس پر فروخت کنندہ کا نام، شناختی کارڈ نمبر اور فون کا آئی ایم ای آئی درج ہو۔
- فون کی قیمت مارکیٹ سے بہت کم ہو تو اضافی احتیاط کریں، کیونکہ چوری شدہ فون اکثر سستے بیچے جاتے ہیں۔
فون چوری ہو جائے تو کیا کریں؟
اگر آپ کا فون چوری یا گم ہو جائے تو سب سے پہلے اپنی موبائل کمپنی سے رابطہ کر کے سم بلاک کرائیں تاکہ کوئی آپ کے نمبر سے واٹس ایپ یا بینکنگ ایپس تک رسائی نہ لے سکے۔ اس کے بعد متعلقہ تھانے یا سرکاری نظام کے ذریعے رپورٹ درج کرائیں اور پی ٹی اے کے طریقہ کار کے مطابق آئی ایم ای آئی بلاک کرانے کی درخواست دیں تاکہ فون ملک میں کسی اور سم پر استعمال نہ ہو سکے۔ واٹس ایپ کے حوالے سے احتیاطی تدابیر ہمارے مضمون واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو کیا کریں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا 8484 پر پیغام بھیجنے کی کوئی فیس ہے؟
عام طور پر معمولی ایس ایم ایس چارجز لاگو ہو سکتے ہیں جو آپ کی موبائل کمپنی کے پیکیج پر منحصر ہیں۔ پی ٹی اے کی جانب سے اس جانچ کی کوئی الگ فیس نہیں۔
ویب سائٹ اور ایس ایم ایس کا جواب مختلف کیوں ہو سکتا ہے؟
دونوں ایک ہی نظام سے معلومات لیتے ہیں۔ اگر حال ہی میں ٹیکس ادا کیا گیا ہو تو اسٹیٹس اپ ڈیٹ ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ کچھ گھنٹوں یا ایک دن بعد دوبارہ چیک کریں۔
کیا فون رجسٹر نہ ہو تو وائی فائی پر چلتا رہے گا؟
عام طور پر ہاں۔ بلاکنگ کا تعلق موبائل نیٹ ورک سے ہوتا ہے، اس لیے وائی فائی پر فون استعمال ہو سکتا ہے مگر سم کی سروس دستیاب نہیں ہوگی۔
کیا ٹیب یا اسمارٹ واچ بھی رجسٹر کرانا ہوتی ہے؟
جس ڈیوائس میں سم لگتی ہو اور جس کا آئی ایم ای آئی ہو، اس پر عموماً یہی نظام لاگو ہوتا ہے۔ اپنی ڈیوائس کی حیثیت 8484 پر جانچ کر یقینی بنا لیں۔
کیا کسی ایجنٹ کے ذریعے سستی رجسٹریشن ممکن ہے؟
ایسے دعووں سے ہوشیار رہیں۔ رجسٹریشن کا جائز طریقہ پی ٹی اے کا سرکاری پورٹل ہے، اور غیر قانونی طریقوں سے رجسٹر کیا گیا فون بعد میں بلاک بھی ہو سکتا ہے۔
خلاصہ
پی ٹی اے موبائل رجسٹریشن چیک کرنا چند سیکنڈ کا کام ہے مگر یہ آپ کو بڑے نقصان سے بچا سکتا ہے۔ *#06# سے آئی ایم ای آئی معلوم کریں، اسے 8484 پر بھیجیں یا dvs.pta.gov.pk پر درج کریں، اور جواب میں Compliant کے علاوہ کوئی اسٹیٹس آئے تو خریداری سے پہلے اچھی طرح سوچیں۔ ٹیکس کی رقم اور قواعد وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں، اس لیے ہمیشہ پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ سے تازہ معلومات حاصل کریں۔
مزید پڑھیں
ذرائع اور مزید معلومات: پی ٹی اے ڈربز: عمومی سوالات، پی ٹی اے ڈیوائس ویریفکیشن سسٹم، پی ٹی اے: ڈربز سوالات و جوابات (پی ڈی ایف)