صبح آنکھ کھلتی ہے اور فون پر واٹس ایپ کا پیغام نظر آتا ہے کہ آپ کا نمبر کسی دوسرے فون پر رجسٹر ہو گیا ہے۔ کچھ دیر بعد رشتہ داروں کی کالیں آنا شروع ہو جاتی ہیں کہ آپ کے نمبر سے پیسے مانگے جا رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ منظر اب غیر معمولی نہیں رہا۔ اس مضمون میں ہم مرحلہ وار بتائیں گے کہ واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو کیا کریں، اکاؤنٹ کیسے واپس حاصل کیا جاتا ہے، اور آئندہ ایسا ہونے سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔
یہ رہنمائی عام صارفین کے لیے ہے۔ اگر آپ کے ساتھ مالی نقصان ہو چکا ہے تو اس مضمون کے آخری حصے میں شکایت درج کرانے کا طریقہ بھی دیا گیا ہے۔
واٹس ایپ ہیک کیسے ہوتا ہے؟ عام طریقے سمجھ لیں
زیادہ تر معاملات میں واٹس ایپ کسی پیچیدہ تکنیکی حملے سے نہیں بلکہ دھوکے سے ہیک ہوتا ہے۔ اسے سوشل انجینئرنگ کہا جاتا ہے، یعنی انسان کو باتوں میں لگا کر اس سے وہ معلومات لے لینا جو اسے کسی کو نہیں دینی چاہیے۔ پاکستان میں عام طور پر یہ طریقے دیکھے جاتے ہیں:
- چھ ہندسوں والا کوڈ مانگنا: کوئی شخص کسی کمپنی، کورئیر، بینک، انعامی اسکیم یا کسی جاننے والے کے نام پر فون کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ کے فون پر ایک کوڈ آیا ہے، وہ بتا دیں۔ یہ دراصل واٹس ایپ کا رجسٹریشن کوڈ ہوتا ہے، اور کوڈ بتاتے ہی آپ کا اکاؤنٹ اس کے فون پر منتقل ہو جاتا ہے۔
- جاننے والے کے ہیک شدہ اکاؤنٹ سے پیغام: کسی دوست یا رشتہ دار کا اکاؤنٹ پہلے ہیک ہوتا ہے، پھر اسی سے آپ کو پیغام آتا ہے کہ غلطی سے ایک کوڈ آپ کے نمبر پر چلا گیا ہے، براہِ کرم بھیج دیں۔
- لنکڈ ڈیوائسز کا غلط استعمال: اگر کسی نے آپ کے فون تک چند منٹ رسائی حاصل کر لی تو وہ واٹس ایپ ویب یا کسی دوسرے کمپیوٹر کو آپ کے اکاؤنٹ سے جوڑ سکتا ہے اور آپ کو پتا بھی نہیں چلتا۔
- مشکوک لنکس اور جعلی ایپس: "واٹس ایپ گولڈ” یا "نیا فیچر حاصل کریں” جیسے لنکس، اور غیر سرکاری ترمیم شدہ ایپس بھی خطرے کا باعث بنتی ہیں۔
- سم کا کنٹرول: اگر کسی طرح آپ کی سم کسی اور کے ہاتھ لگ جائے یا فون چوری ہو جائے تو اس پر آنے والا کوڈ بھی اسی کے پاس جائے گا۔
یہ بات ذہن میں رکھیں کہ واٹس ایپ یا کوئی بھی جائز ادارہ آپ سے فون پر رجسٹریشن کوڈ نہیں مانگتا۔ جو بھی یہ کوڈ مانگے، اسے دھوکہ سمجھیں۔
کیسے پتا چلے کہ واٹس ایپ ہیک ہو گیا ہے؟
کچھ علامات فوراً سامنے آ جاتی ہیں، جبکہ کچھ خاموشی سے موجود رہتی ہیں۔ ان پر نظر رکھیں:
- ایپ کھولنے پر پیغام آئے کہ آپ کا نمبر اب کسی دوسرے فون پر رجسٹر ہو چکا ہے۔
- آپ کے نمبر سے ایسے پیغامات گئے ہوں جو آپ نے نہیں بھیجے۔
- سیٹنگز میں لنکڈ ڈیوائسز کے اندر کوئی ایسا کمپیوٹر یا براؤزر نظر آئے جسے آپ نہیں پہچانتے۔
- آپ کی پروفائل تصویر، نام یا "اباؤٹ” خود بخود بدل گیا ہو۔
- آپ سے اچانک ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کا ایسا پن مانگا جائے جو آپ نے کبھی بنایا ہی نہیں۔
واٹس ایپ ہیک ہو جائے تو کیا کریں: مرحلہ وار طریقہ
گھبراہٹ میں وقت ضائع کرنے کے بجائے یہ اقدامات ترتیب سے کریں۔ پہلا گھنٹہ سب سے اہم ہوتا ہے کیونکہ ہیکر اسی دوران آپ کے رابطوں سے پیسے مانگنے کی کوشش کرتا ہے۔
مرحلہ 1: فوراً اپنے قریبی لوگوں کو خبردار کریں
عام فون کال، ایس ایم ایس، فیس بک یا گھر کے کسی دوسرے فرد کے واٹس ایپ کے ذریعے اپنے گھر والوں، دوستوں اور دفتر کے گروپس کو بتائیں کہ آپ کا اکاؤنٹ کسی اور کے قبضے میں ہے اور آپ کے نام سے آنے والی کسی بھی رقم کی درخواست کا جواب نہ دیں۔ یہ قدم اس لیے سب سے پہلے ہے کہ اکاؤنٹ واپس ملنے میں وقت لگ سکتا ہے، مگر نقصان اسی دوران ہوتا ہے۔
مرحلہ 2: اپنے نمبر سے واٹس ایپ دوبارہ رجسٹر کریں
جس فون میں آپ کی سم موجود ہے، اس میں واٹس ایپ کھولیں (اگر ایپ ہٹ چکی ہے تو دوبارہ انسٹال کریں) اور اپنا نمبر ڈال کر رجسٹریشن شروع کریں۔ آپ کے نمبر پر ایس ایم ایس کے ذریعے چھ ہندسوں کا کوڈ آئے گا۔ یہ کوڈ درج کرتے ہی آپ کا اکاؤنٹ آپ کے فون پر فعال ہو جائے گا، اور جو شخص کسی دوسرے فون پر آپ کا اکاؤنٹ استعمال کر رہا تھا وہ خود بخود باہر ہو جائے گا۔
ایک اہم بات: یہ کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، چاہے سامنے والا خود کو واٹس ایپ کا نمائندہ ہی کیوں نہ بتائے۔
مرحلہ 3: اگر ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کا پن مانگا جائے
بعض اوقات ہیکر آپ کا اکاؤنٹ لیتے ہی اس پر اپنا ٹو اسٹیپ ویریفکیشن پن لگا دیتا ہے تاکہ آپ واپس نہ آ سکیں۔ ایسی صورت میں:
- اگر آپ نے پہلے سے اپنے اکاؤنٹ کے ساتھ ای میل ایڈریس جوڑا ہوا تھا تو "Forgot PIN” کا انتخاب کر کے ای میل پر آنے والے لنک سے پن ری سیٹ کر سکتے ہیں۔
- اگر ای میل نہیں جوڑی گئی تھی تو ایپ آپ کو کچھ دن انتظار کرنے کا کہے گی۔ ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیکنوبیز کی رہنمائی کے مطابق یہ مدت سات دن ہے، جس کے بعد آپ پن کے بغیر دوبارہ رجسٹر کر سکتے ہیں۔
انتظار کے دوران بھی پہلا مرحلہ جاری رکھیں اور اپنے رابطوں کو یاد دہانی کراتے رہیں کہ آپ کے نمبر سے آنے والے پیغامات پر اعتبار نہ کریں۔
مرحلہ 4: لنکڈ ڈیوائسز چیک کریں
اکاؤنٹ واپس ملتے ہی سیٹنگز میں جا کر "Linked devices” کھولیں۔ یہاں جتنے کمپیوٹر یا براؤزر نظر آئیں، اگر ان میں سے کوئی آپ کا نہیں تو اسے فوراً "Log out” کریں۔ بہتر یہ ہے کہ ایک بار سب کو لاگ آؤٹ کر کے اپنے آلات دوبارہ جوڑیں۔
مرحلہ 5: اگر فون یا سم چوری ہوئی ہے
اگر اکاؤنٹ فون یا سم چوری ہونے کی وجہ سے ہاتھ سے گیا ہے تو سب سے پہلے اپنی موبائل کمپنی کی ہیلپ لائن پر رابطہ کر کے سم بلاک کرائیں اور اسی نمبر کی نئی سم جاری کروائیں۔ نئی سم ملنے کے بعد اوپر والا مرحلہ 2 دہرائیں۔ چوری شدہ فون کو بلاک کرانے کے لیے پی ٹی اے کے نظام کی تفصیل ہمارے پی ٹی اے موبائل رجسٹریشن اور آئی ایم ای آئی چیک والے مضمون میں دیکھی جا سکتی ہے۔
مرحلہ 6: نقصان ہوا ہے تو شکایت درج کرائیں
اگر آپ کے اکاؤنٹ کے ذریعے کسی سے رقم لی گئی ہے، یا آپ کو بلیک میل کیا جا رہا ہے، تو اسکرین شاٹس، ہیکر کے نمبرز، رقم کی منتقلی کی رسیدیں اور تاریخیں محفوظ کریں۔ اس کے بعد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں شکایت درج کرائیں۔ شکایت کا مکمل طریقہ ہمارے سائبر کرائم شکایت آن لائن درج کرنے کا طریقہ والے مضمون میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اگر رقم بینک اکاؤنٹ یا موبائل والیٹ سے گئی ہے تو اسی وقت اپنے بینک یا والیٹ کی ہیلپ لائن پر بھی اطلاع دیں۔
واٹس ایپ ہیک ہونے سے کیسے بچیں: سات ضروری احتیاطیں
اکاؤنٹ واپس لینے سے کہیں آسان یہ ہے کہ اسے جانے ہی نہ دیا جائے۔ یہ احتیاطیں چند منٹ میں مکمل ہو جاتی ہیں:
1. ٹو اسٹیپ ویریفکیشن فوراً آن کریں
واٹس ایپ کی سیٹنگز میں Account اور پھر Two-step verification میں جا کر چھ ہندسوں کا ایسا پن بنائیں جو آپ کی تاریخِ پیدائش یا 123456 جیسا آسان نہ ہو۔ اس کے ساتھ اپنا ای میل ایڈریس ضرور جوڑیں تاکہ پن بھولنے کی صورت میں اسے ری سیٹ کیا جا سکے۔ یہ پن آن ہونے کے بعد اگر کوئی آپ کا رجسٹریشن کوڈ حاصل بھی کر لے تو پن کے بغیر اکاؤنٹ نہیں کھول سکے گا۔
2. رجسٹریشن کوڈ اور پن کبھی کسی کو نہ بتائیں
یہ اصول بغیر کسی استثنا کے ہے۔ کوئی بھی بہانہ ہو، کوڈ صرف آپ کے لیے ہے۔ گھر کے بزرگوں اور بچوں کو بھی یہ بات خاص طور پر سمجھائیں کیونکہ دھوکے باز اکثر انہی کو نشانہ بناتے ہیں۔
3. لنکڈ ڈیوائسز باقاعدگی سے دیکھیں
ہفتے میں ایک بار لنکڈ ڈیوائسز کی فہرست دیکھنے کی عادت بنا لیں۔ دفتر یا کیفے کے کمپیوٹر پر واٹس ایپ ویب استعمال کیا ہو تو کام ختم ہوتے ہی لاگ آؤٹ کریں۔
4. فون پر اسکرین لاک لگائیں
فون پر پن، پاس ورڈ یا فنگر پرنٹ لاک لگانا بنیادی حفاظت ہے۔ واٹس ایپ کے اندر بھی ایپ لاک کا آپشن موجود ہے جسے آن کیا جا سکتا ہے۔
5. صرف سرکاری ایپ اسٹور سے ایپ انسٹال کریں
واٹس ایپ صرف گوگل پلے اسٹور یا ایپل ایپ اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کریں۔ "جی بی واٹس ایپ” جیسی ترمیم شدہ ایپس بظاہر زیادہ فیچر دیتی ہیں مگر آپ کے پیغامات اور اکاؤنٹ کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں دیتیں۔
6. مشکوک لنکس پر کلک نہ کریں
انعام، سستے قرض، مفت انٹرنیٹ پیکیج یا "آپ کا پارسل رکا ہوا ہے” جیسے پیغامات کے لنکس کھولنے سے پہلے رکیں۔ اگر پیغام کسی جاننے والے کی طرف سے ہے تب بھی شک ہو تو انہیں فون کر کے تصدیق کر لیں۔
7. پرائیویسی سیٹنگز محدود رکھیں
پروفائل تصویر، لاسٹ سین اور اباؤٹ کو "My contacts” تک محدود کریں اور گروپس میں شامل کرنے کی اجازت بھی صرف رابطوں تک رکھیں۔ اس سے اجنبی افراد کے لیے آپ کے بارے میں معلومات جمع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
عام غلط فہمیاں
| غلط فہمی | حقیقت |
|---|---|
| واٹس ایپ کے پیغامات اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ ہیں، اس لیے اکاؤنٹ ہیک نہیں ہو سکتا۔ | انکرپشن پیغامات کو راستے میں محفوظ رکھتی ہے، مگر اگر آپ خود کوڈ بتا دیں تو اکاؤنٹ دوسرے فون پر منتقل ہو سکتا ہے۔ |
| ہیکر نے پرانے سارے پیغامات پڑھ لیے ہوں گے۔ | عام طور پر نئے فون پر رجسٹر ہونے سے پرانی چیٹس خود بخود منتقل نہیں ہوتیں، البتہ اس دوران آنے والے نئے پیغامات اور گروپ چیٹس ہیکر دیکھ سکتا ہے۔ |
| ایپ ڈیلیٹ کرنے سے اکاؤنٹ بند ہو جاتا ہے۔ | ایپ ہٹانے سے اکاؤنٹ ختم نہیں ہوتا۔ اسے واپس لینے کے لیے دوبارہ رجسٹریشن ضروری ہے۔ |
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا ہیک شدہ واٹس ایپ کا ڈیٹا واپس مل سکتا ہے؟
اگر آپ نے گوگل ڈرائیو یا آئی کلاؤڈ پر چیٹ بیک اپ آن رکھا تھا تو دوبارہ رجسٹریشن کے وقت بیک اپ بحال کرنے کا آپشن ملتا ہے۔ بیک اپ نہ ہونے کی صورت میں پرانے پیغامات واپس لانا عموماً ممکن نہیں ہوتا۔
کیا واٹس ایپ کو فون کر کے اکاؤنٹ واپس لیا جا سکتا ہے؟
اکاؤنٹ واپس لینے کا بنیادی اور محفوظ طریقہ اپنے نمبر پر آنے والے ایس ایم ایس کوڈ سے دوبارہ رجسٹریشن ہے۔ جو لوگ خود کو "واٹس ایپ سپورٹ” بتا کر فون کرتے ہیں اور کوڈ مانگتے ہیں، وہ اکثر خود دھوکے باز ہوتے ہیں۔
میرا کوڈ ایس ایم ایس پر نہیں آ رہا، کیا کروں؟
یقینی بنائیں کہ سم اسی فون میں ہے اور سگنل موجود ہے۔ کچھ دیر بعد "Call me” کا آپشن استعمال کریں۔ بار بار کوڈ مانگنے سے عارضی انتظار کا وقت بڑھ سکتا ہے، اس لیے ایپ جو وقت بتائے اس کا انتظار کریں۔
کیا ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کے بعد بھی اکاؤنٹ ہیک ہو سکتا ہے؟
خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے، مگر اگر آپ کوڈ اور پن دونوں کسی کو بتا دیں تو یہ حفاظت ختم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے دونوں کو خفیہ رکھنا ضروری ہے۔
میرے نام سے لوگوں سے پیسے مانگے گئے، کیا میں ذمہ دار ہوں؟
قانونی ذمہ داری کا فیصلہ متعلقہ ادارے اور عدالت کرتے ہیں۔ آپ کی طرف سے فوری طور پر رابطوں کو خبردار کرنا اور شکایت درج کرانا اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ آپ خود متاثرہ فریق ہیں۔
خلاصہ
واٹس ایپ ہیک ہونا پریشان کن ضرور ہے مگر زیادہ تر معاملات میں اکاؤنٹ واپس لیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے اپنے رابطوں کو خبردار کریں، پھر اپنے نمبر سے دوبارہ رجسٹریشن کریں، لنکڈ ڈیوائسز صاف کریں اور ٹو اسٹیپ ویریفکیشن کو ای میل کے ساتھ آن کریں۔ یاد رکھیں کہ کوئی بھی جائز ادارہ آپ سے رجسٹریشن کوڈ نہیں مانگتا۔ یہی ایک اصول آپ کو زیادہ تر دھوکوں سے بچا سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
ذرائع اور مزید معلومات: واٹس ایپ ہیلپ سینٹر: اکاؤنٹ سیکیورٹی، واٹس ایپ ہیلپ سینٹر: چوری شدہ فون سے اکاؤنٹ کی بحالی، ٹیکنوبیز، برطانوی وزارتِ انصاف: واٹس ایپ اکاؤنٹس کا تحفظ