جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین

حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کا پہلا دور معاہدے کے بغیر ختم، دوسرا دور ہفتے کو؛ پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کی مارچ کال برقرار

اسپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کا پہلا دور کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گیا، دوسرا دور ہفتے کو دوپہر 2 بجے ہوگا۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت
علامتی تصویر: User Waqas.usman on en.wikipedia، Public domain، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

تازہ ترین (جمعہ شام): عرب نیوز اور دنیا نیوز کے مطابق مذاکرات کا پہلا دور کسی معاہدے کے اعلان کے بغیر ختم ہو گیا اور دونوں فریق ہفتے کو دوپہر 2 بجے اسپیکر چیمبر میں دوبارہ ملیں گے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ مثبت بات یہ ہے کہ بات چیت جاری ہے، اور انہوں نے اجلاس میں سخت جملوں کے تبادلے کی خبروں کی تردید کی۔ پارٹی کے بیان کے مطابق 4 اکتوبر کے مارچ کی کال تاحال برقرار ہے۔

دنیا نیوز کے مطابق حکومتی وفد نے پی ٹی آئی سے مارچ کی کال واپس لینے کا مطالبہ کیا، جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے باضابطہ مطالبات اگلے دور میں پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ اے آر وائی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی ٹیم نے اسلام آباد کی جانب مارچ کی اجازت نہ دینے کا مؤقف اپنایا؛ اس دعوے کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہوئی۔

اسلام آباد میں جمعے کو حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں باضابطہ مذاکرات شروع ہو گئے۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق یہ بات چیت ایسے وقت ہو رہی ہے جب پاکستان تحریکِ انصاف کے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مجوزہ مارچ پر وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان کشیدگی کئی ہفتوں سے بڑھ رہی ہے۔ خبر کی اشاعت تک مذاکرات کے کسی نتیجے کا اعلان نہیں ہوا تھا۔

وفود میں کون شامل ہے؟

رپورٹ کے مطابق حکومتی وفد میں وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی، رانا ثنا اللہ، طلال چوہدری، امیر مقام، طارق فضل چوہدری کے علاوہ پیپلز پارٹی کے نوید قمر، شیری رحمان اور اعجاز جاکھرانی شامل ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ مذاکرات میں شریک ہیں۔

مذاکرات کا پس منظر

ڈان کے مطابق یہ نشست جمعرات کو وزیرِ اعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری کی ایوانِ صدر میں ملاقات کے بعد طے پائی، جس میں حکومت اور پیپلز پارٹی کا مشترکہ وفد بنانے کا فیصلہ ہوا۔ بیرسٹر گوہر نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ملاقات کی تصدیق کی تھی۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے اسپیکر کے چیمبر یا وزیرِ اعظم ہاؤس میں کسی ملاقات میں شرکت سے انکار کیا تھا۔

وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے جمعرات کو جیو نیوز کے ایک پروگرام میں کہا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا آپشن زیرِ غور ہے، تاہم اس کا حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری سے مشروط ہوگا۔ پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف ہے کہ مارچ پرامن ہوگا اور احتجاج ان کا آئینی حق ہے، جبکہ بیرسٹر گوہر نے خبردار کیا تھا کہ کسی صوبے میں عوامی مینڈیٹ کے برخلاف اقدام وفاق کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

اپوزیشن اتحاد میں اختلافات کی اطلاعات

اے آر وائی نیوز نے تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ 27 ستمبر کا مارچ ملتوی کرنے کے فیصلے پر اتحاد کی قیادت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس دعوے پر فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

ذرائع: عرب نیوز، دنیا نیوز، اے آر وائی نیوز (حکومتی مؤقف)، اے آر وائی نیوز، ڈان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔