پاک فوج کی اعلیٰ قیادت نے جمعے کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں انتشار پھیلانے یا ’9 مئی جیسی صورتحال‘ پیدا کرنے کی کسی بھی کوشش سے، خواہ اس کا جواز کچھ بھی ہو، فیصلہ کن طاقت اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے بلا امتیاز نمٹا جائے گا۔ یہ بات فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان میں کہی گئی۔
بیان کے مطابق 277ویں کور کمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف ڈیفنس فورسز اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی صدارت میں ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور اعلیٰ درجے کی تیاری برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔
افغانستان اور خطے کی صورتحال
جیو نیوز اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹس کے مطابق فورم نے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے حقِ دفاع اور ہدفی کارروائی کے مؤقف کا اعادہ کیا۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں افغان طالبان قیادت پر بھارت کی ایما پر دہشت گردی میں سہولت کاری کا الزام بھی لگایا گیا؛ خبر کی اشاعت تک اس پر افغان حکام کا ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔
اجلاس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی گئی۔ فورم نے کشمیر کے مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کے پاکستانی مؤقف کو بھی دہرایا۔
عسکری کے ساتھ انتظامی اقدامات پر زور
ڈان کے مطابق شرکا نے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کو سراہا مگر اس بات پر زور دیا کہ عسکری اقدامات کے ساتھ غیر عسکری اور انتظامی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کمانڈرز کو انٹیلیجنس پر مبنی آپریشنز مزید مضبوط بنانے اور جدید ٹیکنالوجی اور تربیت کے ذریعے صلاحیتیں بڑھانے کی ہدایت کی۔
یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب پاکستان تحریکِ انصاف نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کا اعلان کر رکھا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ واضح رہے کہ 9 مئی 2023 کو سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد مختلف شہروں میں پُرتشدد مظاہرے ہوئے تھے جن میں سرکاری اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا تھا۔
ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز