سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا ہے کہ "آئی ایم ایف مجموعی طور پر 174 ترامیم منظور کروانا چاہتا ہے” اور حکومت ان پر کام کر رہی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر کی صدارت میں ہوا۔
ترامیم کن شعبوں سے متعلق ہیں؟
ڈان کے مطابق یہ ترامیم مالیاتی شعبے کی گورننس، سرکاری ملکیتی اداروں، ترسیلات زر، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر امور سے متعلق ہیں۔ اجلاس میں خودمختار دولت فنڈ میں شامل بڑی کمپنیوں کی گورننس اور رپورٹنگ، ترسیلات زر پر سبسڈی اور چینی کی پالیسی میں آزاد روی کے مسودے پر بھی بات ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق چینی پالیسی کے مسودے پر تین صوبوں نے اتفاق کیا جبکہ ایک صوبے نے تحفظات ظاہر کیے۔
آئی ایم ایف پروگرام کا جائزہ
پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرامز کی مجموعی مالیت 8.4 ارب ڈالر ہے، جس میں 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) اور لچک و پائیداری سہولت (آر ایس ایف) شامل ہیں۔ ای ایف ایف کا چوتھا جائزہ زیر التوا ہے اور رپورٹ کے مطابق جائزہ مذاکرات 28 ستمبر سے شروع ہونے ہیں۔ کمیٹی ارکان نے زور دیا کہ اصلاحات کے لیے شفاف اور پائیدار حکمت عملی ضروری ہے۔