جمعرات، 1 اکتوبر 2026
تازہ ترین

لاہور ہائیکورٹ کا زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں 228 تقرریوں کی جامع تحقیقات کا حکم

عدالت نے یونیورسٹی سینڈیکیٹ کو گریڈ 1 سے 22 تک کی تمام تقرریوں کی قانونی حیثیت، میرٹ اور شفافیت کا جائزہ لینے اور تمام افراد کو سنوائی کا موقع دینے کی ہدایت کی۔
لاہور ہائی کورٹ کی تاریخی عمارت کی پرانی تصویر
علامتی تصویر: AnonymousUnknown author، Public domain، بذریعہ ویکی میڈیا کامنز

لاہور ہائیکورٹ نے پیر کو زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں گریڈ 1 سے 22 تک کی گئی 228 تقرریوں کی جامع تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق جسٹس خالد اسحاق نے پروفیسر احسان قادر بھابہ اور دیگر کی درخواستوں پر یہ حکم جاری کیا۔

عدالت کی ہدایات

عدالت نے یونیورسٹی کی سینڈیکیٹ کو ہدایت کی کہ وہ ملازمین اور پروفیسروں کی تقرریوں کی قانونی حیثیت، میرٹ اور شفافیت کا تفصیلی جائزہ لے۔ دنیا نیوز اور ایکسپریس کے مطابق عدالت نے یہ بھی کہا کہ تحقیقات کے دوران تمام 228 افراد کو سنوائی کا موقع دیا جائے۔

درخواست گزاروں کا مؤقف

درخواست گزاروں کے وکیل ذوہیب عمران شیخ نے مؤقف اختیار کیا کہ چھوٹے ملازمین سے لے کر پروفیسروں تک یہ تقرریاں غیر قانونی اور غیر شفاف طریقے سے کی گئیں۔ ان کے مطابق سابق وائس چانسلر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے ان تمام تقرریوں کے نوٹیفکیشن اپنی ریٹائرمنٹ کی رات جاری کیے۔ یہ درخواست گزاروں کا الزام ہے اور اس کی حتمی جانچ اب سینڈیکیٹ کی تحقیقات میں ہوگی۔

وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ گورنر پنجاب نے بطور چانسلر بھی سینڈیکیٹ کو ان تقرریوں کی تحقیقات کی ہدایت کی تھی۔ اے پی پی کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ متنازعہ طور پر تعینات بعض افراد نے حکم امتناعی کے ذریعے سینڈیکیٹ کی انکوائری میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔

ذرائع: اے پی پی، دنیا نیوز، ایکسپریس

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔