دنیا بھر میں 28 ستمبر کو عالمی یومِ ریبیز منایا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس سال انسانوں، جانوروں اور ماحول کی صحت کو ایک دوسرے سے جوڑ کر دیکھنے والے ون ہیلتھ طرزِ عمل پر زور دیا ہے، جبکہ پاکستان میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات بدستور تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
پنجاب کے اعداد و شمار
اے آر وائی نیوز اور پرو پاکستانی کی رپورٹس کے مطابق محکمہ صحت پنجاب کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ رواں سال صوبے میں کتوں کے کاٹنے کے 70 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور اوسطاً روزانہ تقریباً 400 واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ صرف لاہور میں 30 ہزار 514 کیسز ریکارڈ کیے گئے جبکہ ریبیز سے چار اموات ہوئیں۔
انہی اعداد کے مطابق رواں سال کے پہلے تین مہینوں میں 38 ہزار 586 کیسز سامنے آئے، جبکہ 2025 میں پورے سال کے دوران صوبے میں کتے کے کاٹنے کے 2 لاکھ 43 ہزار 299 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
حکومتی اقدامات
رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت آوارہ کتوں کی آبادی کنٹرول کرنے کے لیے انہیں پکڑنے، نس بندی کرنے، ویکسین لگانے اور واپس چھوڑنے کے پروگرام پر عمل کر رہی ہے۔ سرکاری طبی مراکز میں متاثرہ افراد کو اینٹی ریبیز ویکسین مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
کتا کاٹ لے تو کیا کریں؟
دی نیشن کے مطابق سکھر کے محکمہ صحت نے اس دن کی مناسبت سے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کتے کے کاٹنے کی صورت میں زخم کو فوری طور پر کم از کم 15 منٹ تک صابن اور بہتے پانی سے دھوئیں، اینٹی سیپٹک لگائیں اور جلد از جلد قریبی طبی مرکز سے ویکسین لگوائیں۔ شہریوں کو آوارہ یا اجنبی کتوں سے دور رہنے اور پالتو جانوروں کو ویکسین لگوانے کا مشورہ بھی دیا گیا۔
ذرائع: اے آر وائی نیوز، پرو پاکستانی، دی نیشن، عالمی ادارہ صحت