وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم کے تحت رعایتی نرخ پر پیٹرول صرف ان گاڑیوں کو فراہم کیا جائے گا جو اسکیم میں رجسٹرڈ ہوں اور جن کا درست ٹوکن جاری ہو چکا ہو۔ یہ وضاحت آل پاکستان پیٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن نے پیر کو کی۔
پمپ مالکان کا مؤقف
اے آر وائی نیوز اور ٹیک جوس کے مطابق ایسوسی ایشن کے رہنما نعمان علی بٹ نے حکومتی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پمپ عملہ صرف اسی گاڑی کو رعایتی پیٹرول دینے کا پابند ہے جو سسٹم میں ٹوکن کے ساتھ درج ہو۔ اس ٹوکن پر کسی دوسری گاڑی یا غیر رجسٹرڈ موٹر سائیکل میں پیٹرول نہیں ڈالا جا سکتا۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پمپ عملے کے ساتھ تعاون کریں اور ٹوکن سے منسلک گاڑی کے علاوہ کسی اور گاڑی کے لیے رعایتی ایندھن کا مطالبہ نہ کریں۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق اس اسکیم میں اب تک پچاس لاکھ سے زائد افراد رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔
اسکیم کیا ہے؟
اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکلوں، رکشوں، چنگ چی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو فی لیٹر 100 روپے رعایت دی جا رہی ہے۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو ہفتے میں ایک ٹوکن پر 500 روپے رعایت ملتی ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو ہر دس دن بعد دس لیٹر تک یہ رعایت دی جاتی ہے۔
ڈان کے مطابق وزیراعظم نے حال ہی میں اسکیم کا دائرہ بڑھاتے ہوئے یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد رجسٹرڈ موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی کو بھی اہل قرار دیا تھا۔
ذرائع: اے آر وائی نیوز، ٹیک جوس، ریڈیو پاکستان، ڈان