ملک بھر میں 21 سے 27 ستمبر تک انسداد پولیو مہم جاری ہے جس میں جنوبی خیبر پختونخوا سمیت تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
رواں سال کے کیسز
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق 2026 میں اب تک پولیو کے 4 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ تازہ کیس خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کی تحصیل میریان کی یونین کونسل نورڑ کے ایک بچے میں سامنے آیا۔ چار میں سے تین کیسز بنوں ڈویژن سے ہیں، جہاں سیکیورٹی مسائل کے باعث بہت سے بچے ویکسین سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق سرکاری اعداد و شمار میں 2024 میں 74 اور 2025 میں 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔
والدین کے لیے پیغام
پولیو ایک لاعلاج مگر ویکسین سے قابل روک تھام بیماری ہے۔ ماہرین کے مطابق پانچ سال سے کم عمر ہر بچے کو ہر مہم میں قطرے پلوانا ضروری ہے، چاہے اسے پہلے بھی قطرے پلائے جا چکے ہوں۔