میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا ہے کہ ڈملوٹی سے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) تک مخصوص واٹر لائن کے منصوبے کا سنگِ بنیاد منگل 29 ستمبر کو رکھا جائے گا۔ ڈان کے مطابق وہ ہفتے کو ڈیفنس سوسائٹی ریزیڈنٹس ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ نشست میں علاقے کے مکینوں سے گفتگو کر رہے تھے۔
میئر کے مطابق ڈملوٹی سے فیز 6 اور 7 کی حد پر واقع مسجدِ عائشہ تک تقریباً 38 کلومیٹر طویل زمین کے اوپر لائن بچھائی جائے گی جس سے روزانہ 10 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا، جو ڈی ایچ اے کو اس وقت ملنے والے چار سے پانچ ملین گیلن کے علاوہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے منصوبے کے لیے 14 ارب روپے منظور کیے ہیں اور کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے درمیان معاہدہ ہو چکا ہے۔
مدتِ تکمیل اور لاگت
میئر کا کہنا تھا کہ وہ منصوبے کو 18 کے بجائے 12 ماہ میں مکمل کرانے کے لیے زور دے رہے ہیں تاکہ لاگت میں اضافہ نہ ہو۔ ان کے مطابق پائپ لائن کے ذریعے پانی کی لاگت 70 سے 80 پیسے فی گیلن پڑے گی، جبکہ ڈی سیلینیشن پلانٹ کا پانی تقریباً 4 روپے فی گیلن پڑتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ڈی ایچ اے میں رہتے ہیں اور پانی کے لیے ٹینکروں پر انحصار کرتے ہیں۔
مکینوں کے خدشات
ڈیفنس سوسائٹی ریزیڈنٹس ایسوسی ایشن کے صدر شرف الدین میمن نے بتایا کہ ڈی ایچ اے کی ضرورت 10 ملین گیلن یومیہ یا اس سے زیادہ ہے جبکہ ملتا صرف چار سے پانچ ملین گیلن ہے۔ انہوں نے سرکاری منصوبوں میں تاخیر اور ڈملوٹی کے بارہ تاریخی کنوؤوں میں سے اکثر کے خشک ہونے پر تشویش ظاہر کی۔ میئر نے وضاحت کی کہ ڈملوٹی صرف ایک جنکشن ہے جہاں تقریباً 300 ملین گیلن پانی دستیاب ہے۔ رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ نے منصوبے کی نگرانی کے لیے مکینوں پر مشتمل کمیٹی بنانے کی تجویز دی۔
ذرائع: ڈان