امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی مشروط تجویز مسترد کیے جانے کے بعد پیر کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
قیمتوں کی صورتحال
الجزیرہ کے مطابق ایشیائی منڈیوں میں کاروبار کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت تین فیصد سے زیادہ بڑھ کر تقریباً 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ سی این بی سی کے مطابق امریکی وقت کے مطابق صبح ساڑھے دس بجے کے قریب برینٹ 2.3 فیصد اضافے کے ساتھ 106.73 ڈالر پر تھا، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی تقریباً دو فیصد اضافے سے 94.25 ڈالر فی بیرل پر رہا۔
الجزیرہ کے مطابق جاپان کا نکئی انڈیکس 0.73 فیصد اور جنوبی کوریا کا کوسپی 2.70 فیصد نیچے آیا، جبکہ ہانگ کانگ اور آسٹریلیا کی منڈیوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
ایران کی تجویز کیا تھی؟
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر کہا تھا کہ اگر مخصوص شرائط پوری ہوں تو سات روز میں آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔ سی این بی سی کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ نے ان شرائط میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی کو شامل بتایا۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں تصدیق کی کہ انہوں نے ایران کی تجویز مسترد کر دی ہے۔ بزنس ریکارڈر اور سی این بی سی کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس ہفتے بات چیت جاری رہے گی۔
منڈیوں پر اثر
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی میں کمی کے باعث تیل کی رسد پر دباؤ برقرار ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اسی آبی گزرگاہ سے گزرتا تھا۔
ذرائع: سی این بی سی، الجزیرہ، بزنس ریکارڈر