پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان قرض پروگرام کے اگلے جائزے پر باضابطہ مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق وزارتِ خزانہ نے منگل کو بتایا کہ وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ایوا پیٹرووا کی سربراہی میں آنے والے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ ابتدائی اجلاس کیا۔
کتنی رقم داؤ پر ہے؟
یہ مذاکرات 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے سے متعلق ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق کامیاب جائزوں کی صورت میں ای ایف ایف کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت لگ بھگ 20 کروڑ ڈالر جاری ہو سکتے ہیں۔ دی نیشن کے مطابق پاکستان دونوں پروگراموں کے تحت اب تک تقریباً 4.8 ارب ڈالر حاصل کر چکا ہے۔
آئی ایم ایف ٹیم 23 ستمبر سے پاکستان میں موجود ہے اور ابتدائی دنوں میں کراچی میں اسٹیٹ بینک اور دیگر اداروں سے بات چیت کر چکی ہے۔ دی نیشن کے مطابق مذاکرات تقریباً دو ہفتے جاری رہیں گے اور ان میں جون 2026 تک کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔ اسٹاف لیول معاہدہ ہونے کی صورت میں اسے منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
نئے سرکاری خریداری قواعد
ڈان کے مطابق وفاقی حکومت نے پیر کو، مقررہ ڈیڈ لائن سے دو دن پہلے، نئے سرکاری خریداری قواعد کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ پرو پاکستانی کے مطابق نئے قواعد کے تحت وفاقی اداروں کے لیے سرکاری خریداری اور اثاثوں کی فروخت کے لیے ای پاک ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم (ای پیڈز) کا استعمال لازمی ہوگا، اداروں میں خصوصی پروکیورمنٹ سیل قائم کیے جائیں گے اور بڑی خریداریوں کی تیسرے فریق سے جانچ کرائی جائے گی۔
ڈان کے مطابق نئے قواعد میں سرکاری ملکیتی اداروں کے ساتھ براہِ راست معاہدوں کی بعض رعایتیں آئی ایم ایف کے تحفظات کے باوجود برقرار رکھی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سوورین ویلتھ فنڈ قانون میں ترامیم سے متعلق مارچ 2026 کا ایک اسٹرکچرل بینچ مارک بھی تاحال پورا نہیں ہو سکا، جو سات سرکاری اداروں اور تقریباً 8 ارب ڈالر کے اثاثوں سے متعلق ہے۔
ذرائع: عرب نیوز، ڈان، پرو پاکستانی، دی نیشن