امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایران کی پیشکش کو ناکافی قرار دیا ہے۔ ڈان اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے مطابق ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ ایسی تجاویز اب بھی قبول نہیں کریں گے جو ایک سال پہلے منظور نہ کرتے۔ انہوں نے 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے دوبارہ شروع ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا، تاہم کوئی تفصیل بتانے سے گریز کیا۔
نئی پابندیاں
امریکی محکمہ خزانہ نے جمعرات کو ایران کی آٹوموبائل اور ریلوے صنعت سے وابستہ اداروں پر نئی پابندیاں عائد کیں۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق ان میں ایران کی بڑی کار ساز کمپنیاں اور انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور جرمنی سمیت مختلف ممالک میں قائم ادارے شامل ہیں۔ ڈان کے مطابق یہ اقدامات 24 اگست کو شروع کیے گئے امریکی معاشی دباؤ کے پروگرام کا حصہ ہیں۔
ایران اور روس کا ردِعمل
ڈان کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک مذاکرات کے لیے تیار ہے، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے آبنائے ہرمز کھلنے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا افزودہ یورینیم اپنے پاس رکھنے کی روسی پیشکش برقرار ہے۔
تیل منڈی میں اتار چڑھاؤ
ڈان کے مطابق چین کی جانب سے ایندھن کی برآمدات معطل کرنے کے بعد جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ روئٹرز کے مطابق جمعے کو ڈیزل اور خام تیل کے ذخائر جاری کرنے سے متعلق بات چیت کی خبروں پر قیمتیں تقریباً 3 فیصد گر گئیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ، جسے ڈان نے نقل کیا، کے مطابق امریکا مشرقِ وسطیٰ میں تیسرا طیارہ بردار بحری جہاز اور مزید دس ہزار تک فوجی بھیج رہا ہے۔
ذرائع: ڈان، اے پی بذریعہ سی ٹی وی نیوز، ڈان (تیل منڈی)، روئٹرز بذریعہ اے آر وائی نیوز