اسلام آباد کے تحقیقی ادارے سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق 2026 کی تیسری سہ ماہی میں دہشت گردی اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں سے منسلک ہلاکتوں میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 83 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ڈان کے مطابق اس عرصے میں 385 واقعات میں کم از کم 1415 افراد جان بحق اور 558 زخمی ہوئے، جبکہ سال کی پہلی دو سہ ماہیوں میں کمی کا رجحان تھا۔
بلوچستان اور خیبرپختونخوا
رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں 829 ہلاکتیں ہوئیں جو ملک بھر کی ہلاکتوں کا تقریباً 59 فیصد ہیں؛ صوبے میں ہلاکتیں دوسری سہ ماہی کے 265 سے بڑھ کر 829 ہو گئیں۔ خیبرپختونخوا میں 556 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں جبکہ زخمیوں کی سب سے زیادہ تعداد، 376، اسی صوبے میں تھی۔ دونوں صوبوں میں مجموعی طور پر 98 فیصد ہلاکتیں ہوئیں۔
ہلاک ہونے والوں میں کون شامل
رپورٹ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی اکثریت، یعنی 65 فیصد سے زائد، ان افراد پر مشتمل تھی جنہیں سی آر ایس ایس شدت پسند یا قانون شکن عناصر قرار دیتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سب سے مہلک گروہ رہی جس کے حملوں میں 117 افراد ہلاک ہوئے۔
شمالی وزیرستان میں کارروائی
ادھر اے آر وائی نیوز نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے جمعے کو بتایا کہ شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی کارروائی میں سات دہشت گرد مارے گئے۔ یہ دعویٰ سیکیورٹی ذرائع کا ہے اور آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذرائع: ڈان (سی آر ایس ایس رپورٹ)، دی پین پی کے، اے آر وائی نیوز