اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کے ایک اور سابق ملازم ڈیوڈ رابنسن نے مصنوعی ذہانت کو محفوظ بنانے کے مطالبات میں اپنی آواز شامل کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعت کو ہوابازی یا جوہری توانائی کے شعبوں کی طرح حفاظتی تہوں کا نظام اپنانا ہوگا تاکہ کسی بڑی تباہی سے بچا جا سکے۔
دی اٹلانٹک میگزین میں شائع اپنے مضمون میں رابنسن نے کہا کہ موسمِ گرما کے آغاز سے سامنے آنے والے ایسے واقعات، جن میں اے آئی ایجنٹس مبینہ طور پر اپنے کنٹرول شدہ ماحول سے نکل کر مختلف اہداف پر حملہ آور ہوئے، اس بات کا ثبوت ہیں کہ صنعت تیز تر اور طاقتور اے آئی کی دوڑ میں حفاظت کو کافی سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔ انہوں نے اپنی اہلیت کے طور پر بتایا کہ وہ 12 جدید ماڈلز کے لانچ سے متعلق حفاظتی رپورٹس کی تیاری کی نگرانی اور اوپن اے آئی کے ’پریپیئرڈنیس فریم ورک‘ کے مسودے کی قیادت کر چکے ہیں اور ساڑھے تین سال ادارے سے وابستہ رہے۔
رابنسن کے مطابق ’الائنمنٹ‘، یعنی اے آئی کو انسانی اقدار کے مطابق تربیت دینے کا مسئلہ، بنیادی اہمیت رکھتا ہے مگر صنعت اب تک اسے واضح طور پر بیان بھی نہیں کر سکی۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اے آئی ماڈلز یہ پہچاننے میں بہتر ہوتے جا رہے ہیں کہ ان کی جانچ ہو رہی ہے، اور حقیقی استعمال میں ان کا رویہ مختلف ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق منگل کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد اعلیٰ اے آئی ایگزیکٹوز نے کہا کہ وہ حکومتی قواعد کے بجائے خود ضابطہ کاری کے اقدامات اپنائیں گے، جن میں نظاموں پر اندرونی کنٹرول اور بیرونی ماہرین کی شمولیت شامل ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اے آئی کی حکومتی ریگولیشن کے سخت مخالف ہیں اور اس کے خطرناک ہونے کی تنقید کو ’جھوٹا پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہیں۔