بدھ 7 اکتوبر کو سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بنیاد پر کیے گئے آپریشن میں سکیورٹی فورسز نے 13 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ پاکستان ٹی وی کے مطابق یہ کارروائی عزمِ استحکام کے وژن کے تحت دہشت گرد گروہوں کے خلاف جاری آپریشنز کا حصہ ہے۔
رپورٹ میں ہلاک ہونے والوں کو فتنہ الخوارج کہا گیا ہے۔ ڈان کے مطابق ریاست یہ اصطلاح کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ڈان کی رپورٹ میں اس کارروائی کی آزاد ذرائع سے تصدیق کا ذکر نہیں، اس لیے ہلاکتوں کی تعداد سرکاری بیان پر مبنی ہے۔
ایک روز قبل بھی شمالی وزیرستان میں سکیورٹی ذرائع نے پانچ دہشت گرد مارے جانے اور دو کے زخمی ہونے کا اعلان کیا تھا، جس پر ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہا۔ اس سے پہلے 2 اکتوبر کو اسی ضلع میں سات دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی۔
خیبر پختونخوا میں سکیورٹی صورتحال طویل عرصے سے دباؤ میں ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (پکس) کے اعداد و شمار کے مطابق ضم شدہ اضلاع کے علاوہ صوبے میں اگست کے دوران دہشت گردی کے 54 حملے ریکارڈ ہوئے، جبکہ جولائی میں یہ تعداد 36 تھی، یعنی 50 فیصد اضافہ۔
حالیہ ہفتوں کے بڑے واقعات میں 26 ستمبر کو ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درازندہ میں پولیس چیک پوسٹ پر خودکش دھماکہ شامل ہے جس میں 12 افراد جاں بحق اور 35 زخمی ہوئے، جبکہ 18 ستمبر کو کوہاٹ کی پرانی پولیس لائنز پر حملے میں 23 افراد جان سے گئے اور تقریباً 100 زخمی ہوئے۔
ذرائع: ڈان (Dawn)، ایکسپریس ٹریبیون