بدھ، 28 اکتوبر 2026

ایران پر نئے حملوں کی تیاری کی خبروں کے بعد ٹرمپ کا اعلان: وسط مدتی انتخابات سے پہلے حملہ نہیں ہوگا

امریکی رپورٹوں کے مطابق پینٹاگون نے سینٹ کام کو ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی تیاری مکمل کرنے کا کہا؛ صدر ٹرمپ نے جمعرات کو انتخابات سے پہلے حملہ نہ کرنے کا اعلان کیا جبکہ ایران نے چند دن میں جواب دینے کا کہا۔
امریکی محکمۂ دفاع پینٹاگون کی عمارت کا فضائی منظر
تصویر: U.S. Navy photo / Wikimedia Commons / Public domain

واشنگٹن / تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان فروری میں شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کا کوئی معاہدہ ابھی طے نہیں پایا، اور اسی دوران عسکری کارروائی کی بحالی کی خبروں نے خطے اور عالمی منڈیوں کو بے چین کر دیا۔ بدھ کو امریکی میڈیا میں رپورٹیں آئیں کہ پینٹاگون نے سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کو ایران کے خلاف بڑی جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی ممکنہ تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا، جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بتایا کہ تہران چند دن میں اپنا جواب دے گا۔

رپورٹوں میں کیا کہا گیا

ایکسیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے لکھا کہ پینٹاگون نے کئی دن پہلے سینٹ کام کو تیاری مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ رپورٹ کے مطابق بڑی کارروائی کی صورت میں ایران کی توانائی، بنیادی ڈھانچے اور جوہری مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور اس میں اسرائیل بھی شریک ہو سکتا ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے حتمی فیصلہ نہیں کیا اور حملوں کی کوئی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ دی اٹلانٹک کے مطابق وائٹ ہاؤس نے ایسے آپشنز مانگے ہیں جن پر 3 نومبر کے انتخابات سے پہلے عمل ہو سکے۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے ایکسیوس کو بتایا کہ انتخابات سے پہلے حملے کے امکانات زیادہ نہیں مگر انہیں مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے کہا کہ صدر کے پاس ہر وقت تمام آپشنز موجود رہتے ہیں۔

ٹرمپ اور عراقچی کے بیانات

جمعرات کو ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کے ساتھ “نتیجہ خیز بات چیت” جاری ہے اور انتخابات سے پہلے کوئی حملہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے دہرایا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونا چاہیے۔ دی ہِل کے مطابق ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی اور معاشی دباؤ برقرار ہے۔

تسنیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ عراقچی نے ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات جاری رہنے کی تصدیق کی۔ ان کے مطابق ایران نے “سات روزہ منصوبے” کے نام سے اپنی تجویز دی تھی، امریکی ردِعمل موصول ہو چکا ہے اور اس کا جائزہ لے کر آئندہ چند دن میں جواب دیا جائے گا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ مسئلہ امریکی حکام کے متضاد مؤقف اور غیر واضح پیغامات کا ہے۔

تیل کی منڈی پر اثر

یورونیوز کے مطابق جمعرات کو برینٹ خام تیل 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا اور تقریباً 5 فیصد بڑھا، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی 5.1 فیصد اضافے کے ساتھ تقریباً 92.75 ڈالر پر پہنچا۔ آبنائے ہرمز میں ٹینکروں پر حملوں میں اضافے اور امریکی خلیجی ساحل پر طوفان کے باعث پانچ لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ پیداوار بند ہونے کو بھی وجوہات میں شمار کیا گیا۔ بعد ازاں ایکسپریس ٹریبیون نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کے بیانات کے بعد رسد کے خدشات کچھ کم ہوئے اور تیل کی قیمتیں نیچے آئیں۔

واشنگٹن ٹائمز کے مطابق نئی فوجی کارروائی کی صورت میں آبنائے ہرمز میں آمدورفت رک سکتی ہے اور ایران توانائی تنصیبات پر حملوں کا اشارہ دے چکا ہے۔ پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے یہ صورتحال مہنگائی اور بیرونی ادائیگیوں کے لحاظ سے اہم ہے۔ فی الحال سفارتی رابطے جاری ہیں اور ایران کا آئندہ جواب آنے والے دنوں کا رخ متعین کرے گا۔

ذرائع: دی ہِل، یورونیوز، اے این آئی، واشنگٹن ٹائمز

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔