بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

ملک بھر کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 110,513 تک پہنچ گئی، ہر چار میں سے تین قیدی زیرِ سماعت

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اور جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی سالانہ جیل ڈیٹا رپورٹ 2026 کے مطابق ملک کی جیلیں گنجائش کے 160 فیصد سے زیادہ بھری ہوئی ہیں اور 75 فیصد قیدی مقدمے کے فیصلے کے منتظر ہیں۔
کراچی سینٹرل جیل کی عمارت کا بیرونی منظر
تصویر: Farhan from Karachi, Pakistan / Wikimedia Commons / CC BY 2.0

اسلام آباد: ملک کی جیلوں میں قید افراد کی تعداد 110,513 ہو گئی ہے اور ہر چار میں سے تین قیدی ایسے ہیں جن کے مقدمات کا فیصلہ نہیں ہوا۔ یہ اعداد و شمار “سالانہ جیل ڈیٹا رپورٹ 2026” میں سامنے آئے ہیں، جو قومی کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) اور جسٹس پراجیکٹ پاکستان (جے پی پی) نے مشترکہ طور پر تیار کی۔ ڈان کے مطابق رپورٹ جمعرات کو یورپی یونین کے تعاون سے جاری کی گئی۔

گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی

رپورٹ کے مطابق جیلیں اپنی منظور شدہ گنجائش کے 160 فیصد سے زیادہ پر چل رہی ہیں۔ مجموعی گنجائش تقریباً 68,832 قیدیوں کی ہے، جبکہ 41,681 افراد اس تعداد سے زائد رکھے گئے ہیں۔ رپورٹ کے اس دوسرے ایڈیشن میں ملک بھر کے سرکاری جیل ڈیٹا کی بنیاد پر قید کے رجحانات، زیرِ سماعت قید، ضمانت، مقدمات میں تاخیر اور قید کے متبادل طریقوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

زیرِ سماعت قیدیوں کا بوجھ

کل قیدیوں میں 82,988 یعنی 75 فیصد زیرِ سماعت ہیں۔ ان کی تعداد اکیلی ہی ملک کی پوری جیل گنجائش سے 14,156 زیادہ ہے۔ زیرِ سماعت قیدی وہ ہوتے ہیں جنہیں عدالت نے ابھی مجرم قرار نہیں دیا، اس لیے مقدمات میں تاخیر کا اثر براہِ راست ان کی آزادی پر پڑتا ہے۔ این سی ایچ آر کی چیئرپرسن ربیعہ جاوید آغا کے مطابق مسئلہ صرف جیلوں کی گنجائش کا نہیں بلکہ فوجداری نظامِ انصاف کے وسیع تر بحران کا ہے، کیونکہ لوگ جیل میں اس رفتار سے آ رہے ہیں جس رفتار سے نظام ان کے مقدمات نمٹا نہیں پاتا۔

منشیات کے مقدمات اور صوبوں کا فرق

منشیات کے جرائم بھی تعداد بڑھنے کی بڑی وجہ بتائے گئے ہیں۔ کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ایکٹ کے تحت 28,000 سے زیادہ افراد قید ہیں، جو کل قیدیوں کے چوتھائی سے زیادہ ہیں، اور 2023 کے بعد ایسے قیدیوں میں 43 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

صوبوں میں صورتحال مختلف ہے۔ پنجاب اور سندھ میں قیدیوں کی تعداد تیزی سے بڑھی اور وہاں شدید گنجائش کا مسئلہ ہے، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان نے جیلوں کی آبادی کم کی اور وہ اپنی گنجائش کے اندر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان صوبوں میں پروبیشن، پیرول اور ڈائیورژن جیسے متبادل طریقوں کے زیادہ استعمال نے اس میں کردار ادا کیا۔

خواتین، بچے اور سزائے موت

2024 کے بعد جیلوں میں خواتین کی تعداد 45.96 فیصد بڑھی ہے، جبکہ جیلوں میں موجود 86.2 فیصد بچے مقدمے کے فیصلے کے منتظر ہیں۔ سزائے موت کے منتظر قیدیوں کی تعداد 11.7 فیصد کمی کے ساتھ 3,220 رہ گئی ہے۔

اصلاحات کی سفارشات

جے پی پی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر سارہ بلال نے کہا کہ یہ ڈیٹا نظامِ انصاف کی اصلاح کی رہنمائی کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔ یورپی یونین کے وفد کے جیروئن ولمز نے کہا کہ جیلوں کا انتظام اس بات کا عکس ہے کہ معاشرہ ریاستی تحویل میں موجود افراد سے کیسا سلوک کرتا ہے۔ رپورٹ نے غیر ضروری حراست میں کمی، ضمانت اور مچلکوں کے نظام کی اصلاح، مقدمات میں تاخیر کے ازالے، متبادل سزاؤں کے فروغ اور جیلوں کی نگرانی مضبوط بنانے کی سفارش کی، اور ان قوانین و پالیسیوں پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا جو غیر ضروری قید کا سبب بنتی ہیں۔

ذرائع: ڈان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔