بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

امریکا ایران مذاکرات: وینس کا مطالبہ افزودگی میں "بامعنی کمی”؛ ایرانی صدر کی پیوتن سے گفتگو: معاہدہ پہنچ سے باہر نہیں

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو افزودگی کی صلاحیت میں بامعنی کمی کرنی ہوگی، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پیوتن سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے باوجود معاہدہ پہنچ سے باہر نہیں۔
فائل تصویر: خلا سے لی گئی آبنائے ہرمز کی ناسا کی تصویر
فائل تصویر: خلا سے لی گئی آبنائے ہرمز کی ناسا کی تصویر | تصویر: NASA، لائسنس: Public domain (ویکی میڈیا کامنز)

واشنگٹن/تہران: امریکا اور ایران کے درمیان سات ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں فریقین کے سخت موقف سامنے آئے ہیں۔ رائٹرز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے، جو الاسکا کے انتخابی دورے کے بعد پیر کو گفتگو کر رہے تھے، کہا کہ کسی بھی معاہدے کے لیے ایران کو اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت میں "بامعنی" کمی کرنا ہوگی، محض مستقبل میں کمی کی یقین دہانی کافی نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق اگر ایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا تو اسے 60 فیصد افزودہ ایندھن کی ضرورت کیوں ہے۔ وینس نے واضح کیا کہ امریکا معاہدے کے لیے کھلا ہے مگر "الفاظ کے بدلے عمل" کا سودا نہیں کرے گا۔

وینس نے یہ بھی کہا کہ واشنگٹن کو یقین نہیں کہ تہران میں فیصلے کون کرتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بات کر رہا ہے، لیکن جنگ کے آغاز پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد یہ واضح نہیں کہ ان کے پاس کتنا اختیار ہے۔ ڈان کے مطابق وینس نے جون میں ایک عبوری امن معاہدہ بھی کروایا تھا جو جلد ہی ناکام ہو گیا۔ رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے تہران کی تازہ ترین پیشکش مسترد کر دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد فوجی کارروائیاں بڑھ سکتی ہیں۔ جنگ پر ماہانہ تقریباً تین ارب ڈالر خرچ ہو رہے ہیں اور توانائی کی بلند قیمتیں ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی دباؤ کا باعث بنی ہیں۔

دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکی حکام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے ایرانی ہم منصب کون ہیں؛ مسئلہ امریکی حکام کے متضاد موقف اور الجھے ہوئے پیغامات ہیں۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران افزودگی کا حق کبھی نہیں چھوڑے گا، تفصیلات بعد میں زیر بحث آ سکتی ہیں، اور ایٹمی پروگرام پر امریکا کے ساتھ ابھی کوئی مذاکرات نہیں ہوئے؛ امریکا پہلے تہران کی شرائط پوری کرے۔ اس عہدیدار کے مطابق افزودگی کے حق کو امریکا کی جانب سے تسلیم کیا جانا ایران کی سرخ لکیر ہے۔

بدھ کو ایرانی صدارتی دفتر کے مطابق صدر پزشکیان نے روسی صدر ولادیمیر پیوتن سے ٹیلیفونک گفتگو میں پاکستان کی ثالثی میں جاری امریکا ایران مذاکرات کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ واشنگٹن کا "دوہرا معیار اور انتہا پسندانہ رویہ" منصفانہ معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا بین الاقوامی قانونی ڈھانچے کی پاسداری کرے تو معاہدہ "پہنچ سے باہر نہیں" اور ایران "متوازن و منصفانہ" معاہدے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک کو "برادر" قرار دیتے ہوئے ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کے ایران کے خلاف استعمال پر افسوس ظاہر کیا۔ پیوتن نے سفارتی کوششوں کی حمایت دہرائی، ایران کی خودمختاری کے احترام پر زور دیا اور جنگی نقصانات کے معاوضے اور مستقبل میں حملوں کے خلاف طویل مدتی سکیورٹی ضمانتوں کے ایرانی مطالبات کی تائید کی۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی متضاد دعوے سامنے آئے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کے سربراہ کے مشیر محمد رضا نقدی نے فارس نیوز کو بتایا کہ ہرمز بند ہے اور مسلح افواج کا اس پر مکمل کنٹرول ہے، جبکہ عمان کے ساحل کے ساتھ "غیر قانونی راستے" جلد بند کر دیے جائیں گے۔ دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے آبنائے کا مکمل کنٹرول کھو دیا ہے اور تیل کا بہاؤ جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً برابر ہو چکا ہے۔ رائٹرز کے مطابق کیپلر کے عارضی اعداد و شمار میں خطے سے خام تیل کی برآمدات کی سات روزہ اوسط 30 ستمبر کو 18.3 ملین بیرل یومیہ رہی، جبکہ پاسداران انقلاب کے ایک اور مشیر کے مطابق روزانہ اوسطاً 10 جہاز گزر رہے ہیں جبکہ جنگ سے پہلے یہ تعداد 125 تھی۔

پس منظر

رائٹرز کے مطابق جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی جب امریکا اور اسرائیل نے تہران پر فضائی حملے میں خامنہ ای کو ہلاک کیا۔ جون میں وینس کی طرف سے کروائی گئی عبوری امن معاہدے کی کوشش جلد ناکام ہو گئی۔ ڈان کے مطابق آئی ایم ایف کی سربراہ کرستالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ جنگ جلد ختم بھی ہو جائے تو توانائی کی بلند قیمتوں کا مسئلہ کچھ عرصہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔

اہم نکات

  • وینس: ایران کو افزودگی کی صلاحیت میں بامعنی کمی کرنی ہوگی؛ واشنگٹن کو تہران میں فیصلہ سازی پر ابہام ہے۔
  • ایران: افزودگی کا حق سرخ لکیر، امریکا پہلے شرائط پوری کرے۔
  • پزشکیان کی پیوتن سے گفتگو: پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات، معاہدہ "پہنچ سے باہر نہیں"۔
  • آبنائے ہرمز پر متضاد دعوے: ایرانی بندش کا دعویٰ، امریکی کنٹرول کھونے کا دعویٰ۔

ممکنہ اثرات

مذاکرات میں تعطل کی صورت میں تیل کی قیمتیں اور خطے میں سلامتی کے خطرات برقرار رہ سکتے ہیں، جس کا اثر پاکستان کی معیشت اور ایندھن کی قیمتوں پر براہِ راست پڑتا ہے۔ ثالث کے طور پر پاکستان کا سفارتی کردار بھی نمایاں رہے گا۔

آگے کیا ہو سکتا ہے

امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے اور بعد فوجی و سفارتی دباؤ میں تبدیلی متوقع ہے، جبکہ نئی تجاویز کے تبادلے کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔

ذرائع

  • ایکسپریس ٹریبیون اور ڈان (رائٹرز، اے ایف پی، 7–8 اکتوبر 2026)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔