ریاض: سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بدھ کو بتایا کہ منگل اور بدھ کے دوران ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو دو الگ حملوں میں نشانہ بنایا گیا، جن میں مجموعی طور پر تین افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے۔ اتھارٹی کے مطابق دونوں واقعات میں ہنگامی اور متعلقہ ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچے اور مادی نقصان بھی ہوا۔ ایکسپریس ٹریبیون نے یہ تفصیلات اناضولو ایجنسی کے حوالے سے شائع کیں، جبکہ ڈان نے بھی ہلاکتوں اور زخمیوں کی یہی تعداد رپورٹ کی ہے۔
گاکا کے مطابق ابہا ایئرپورٹ پر حملے میں دو مقیم غیر ملکی، جن میں ایک مراکشی اور ایک الجزائری شامل ہے، ہلاک ہوئے جبکہ 28 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں دو سعودی شہری اور بنگلہ دیشی و فلپائنی شہریت کے مقیم افراد بھی شامل ہیں اور ان کے زخم معمولی سے شدید نوعیت کے ہیں۔ ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں ایک سوڈانی شہری ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں پانچ سعودی، دو مصری اور ایک پاکستانی شہری شامل ہے۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اتھارٹی نے کہا کہ وہ نقصان کا جائزہ لینے اور مسافروں و ایئرپورٹ عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے متعلقہ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔
یمن کے حوثیوں نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ دونوں ہوائی اڈوں کو انہوں نے نشانہ بنایا۔ حوثی فوجی ترجمان یحیٰ سریع کے مطابق ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ کو ڈرونز سے جبکہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے یمن میں حوثیوں اور سعودی قیادت والے اتحاد کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے دوران ہوئے ہیں۔ یہ اتحاد مارچ 2015 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں سرگرم ہے۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ صنعا میں وہ بیلسٹک میزائل لانچنگ پلیٹ فارم تباہ کر دیا گیا جو ریاض پر حملے میں استعمال ہوا تھا، اور یہ کارروائی مملکت پر "قریب الوقوع حملے کی تیاری" کے دوران کی گئی۔
حملوں کے بعد غیر ملکی سفارت خانوں نے بھی انتباہ جاری کیا۔ سعودی عرب میں امریکی مشن نے بدھ کو سیکیورٹی الرٹ میں شہریوں سے انتہائی محتاط رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ حوثی شہری ہوائی اڈوں سمیت سعودی عرب کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں اور فوجی تنازع کے بڑھنے کا امکان موجود ہے۔ مشن نے پروازوں کی منسوخی، فضائی حدود کی بندش اور سفری رکاوٹوں کے امکان سے بھی خبردار کیا اور شہریوں کو یمنی سرحد کے قریب جانے سے منع کیا۔ اس سے ایک دن پہلے برطانوی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو بتایا تھا کہ مملکت کو "شہروں، ہوائی اڈوں، فوجی مقامات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے" پر میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا ہے۔
ڈان نے سات اکتوبر کو رپورٹ دی کہ یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے اور 24 گھنٹوں میں 115 سرکاری فوجی اور 160 حوثی جنگجو ہلاک ہوئے، جبکہ حوثیوں نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کا دعویٰ کیا اور علاقے کھونے کی تردید کی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں بڑھتی لڑائی کا "تباہ کنن" انسانی بوجھ پڑ رہا ہے۔
پس منظر
سعودی عرب پاکستان اور ترکیہ کے ساتھ مکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، اور اتحاد کی کمیٹی نے پیر کو ریاض میں ہنگامی اجلاس کر کے سعودی عرب میں دستوں کی تیز تعیناتی کا فیصلہ کیا تھا۔ ڈان کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوجی سعودی عرب میں موجود ہیں۔
اہم نکات
- ابہا ایئرپورٹ پر 2 ہلاک، 28 زخمی؛ ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر 1 ہلاک، 8 زخمی۔
- ریاض میں زخمیوں میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔
- حوثیوں نے ذمہ داری قبول کی؛ اتحاد کا صنعا میں لانچر تباہ کرنے کا دعویٰ۔
- امریکی اور برطانوی سفارت خانوں کے انتباہات جاری۔
ممکنہ اثرات
ہوائی اڈوں پر حملوں سے پروازوں میں خلل اور مسافروں کی حفاظت کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ خطے میں تعینات پاکستانی اور دیگر اتحادی افواج کے کردار پر مزید توجہ مرکوز ہو سکتی ہے۔ سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لیے متعلقہ سفارتی ہدایات پر نظر رکھنا اہم ہوگا۔
آگے کیا ہو سکتا ہے
اگر حملے جاری رہے تو سعودی قیادت والا اتحاد جوابی کارروائیاں بڑھا سکتا ہے اور مزید ممالک سفری انتباہات جاری کر سکتے ہیں۔ آج دیکھی گئی رپورٹس میں حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان کسی جنگ بندی کا ذکر موجود نہیں۔
ذرائع
- ایکسپریس ٹریبیون (اناضولو ایجنسی) اور ڈان (8 اکتوبر 2026)