اوسلو: نارویجن نوبل کمیٹی نے جمعہ کو اعلان کیا کہ 2026 کا نوبل امن انعام جنوبی افریقہ کی ممتاز ماہرِ قانون ناوانیتھم “نوی” پلے کو دیا جائے گا۔ یورونیوز کے مطابق کمیٹی کے چیئرمین یورگن واتنے فریڈنیس نے کہا کہ یہ انعام ایسی شخصیت کو دیا جا رہا ہے جس نے غیر معمولی جرات اور دیانت کے ساتھ ایک زیادہ جامع عالمی قانونی نظام کی راہ ہموار کی۔ ان کے مطابق انعام یافتہ شخصیت نے اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا کہ جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مرتکب افراد کے خلاف مقدمات چلائے جائیں۔ یورونیوز نے اپنی رپورٹ کو ترقی پذیر خبر قرار دیا ہے اور مزید تفصیلات آنے پر اسے اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے۔
انعام کی رقم میں اضافہ
اس سال کا نوبل انعام رقم کے لحاظ سے بھی نمایاں ہے۔ نوبل فاؤنڈیشن نے ستمبر میں اعلان کیا تھا کہ ہر شعبے کے انعام کی رقم بڑھا کر 12 ملین سویڈش کرونر، یعنی تقریباً 10.7 لاکھ یورو، کر دی جائے گی۔ فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہانا شٹیرنے کے مطابق نوبل انعام کی 125 ویں سالگرہ کے موقع پر رقم میں ایک ملین کرونر کا اضافہ کیا گیا تاکہ وقت کے ساتھ انعام کی مالی قدر برقرار رہے۔
نوی پلے کون ہیں
نوی پلے 1941 میں جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے نسلی امتیاز کے نظام کے دور میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور بعد ازاں بین الاقوامی انصاف کے اہم اداروں میں خدمات انجام دیں۔ وہ 1995 سے 2003 تک روانڈا کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل کی جج رہیں اور اس کی صدر بھی بنیں۔ یہ ٹریبونل اقوامِ متحدہ نے تنزانیہ کے شہر اروشا میں 1994 کی روانڈا نسل کشی کے ذمہ داروں پر مقدمات چلانے کے لیے قائم کیا تھا، اور اس کے ایک مشہور فیصلے میں پہلی بار کسی بین الاقوامی عدالت نے نسل کشی کے جرم میں سزا سنائی اور جنسی تشدد کو نسل کشی کے عمل کے طور پر تسلیم کیا۔ بعد ازاں وہ 2003 سے 2008 تک بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج رہیں۔ 2008 میں وہ اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مقرر ہوئیں اور 2014 تک اس منصب پر فائز رہیں۔ یورونیوز کی عربی سروس نے بھی انہیں اقوامِ متحدہ کی سابق ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے طور پر بیان کیا ہے۔
کمیٹی کے بیان کا مفہوم
نوبل امن انعام ہر سال ایسے افراد یا اداروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے اقوام کے درمیان بھائی چارے، امن کے فروغ اور ہتھیاروں میں کمی جیسے مقاصد کے لیے نمایاں کام کیا ہو۔ اس بار کمیٹی کے بیان کا زور بین الاقوامی قانون اور احتساب پر ہے، یعنی اس تصور پر کہ سنگین بین الاقوامی جرائم کے مرتکب افراد کو عدالتی عمل کا سامنا کرنا چاہیے۔ کمیٹی نے اپنے مختصر بیان میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کا خاص طور پر ذکر کیا۔
فی الحال کمیٹی کے اس مختصر بیان اور انعام کی رقم سے متعلق تفصیلات کے علاوہ نوی پلے یا دیگر فریقوں کے ردِعمل کی تصدیق شدہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ جیسے ہی معتبر ذرائع سے مزید تفصیلات سامنے آئیں گی، یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
ذرائع: یورونیوز