بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین

پی ٹی آئی کا لانگ مارچ پانچویں روز پشاور پہنچ گیا؛ حکومتی پیشکش پر پارٹی کا ہنگامی اجلاس، پشاور ہائیکورٹ نے وزیرِ اعلیٰ سے جواب مانگ لیا

ڈان کے مطابق وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ پشاور پہنچا؛ مارچ کا اگلا شیڈول چارسدہ، مردان اور صوابی ہے۔ حکومتی پیشکش کی خبروں پر پی ٹی آئی نے ہنگامی اجلاس بلایا جبکہ دونوں جانب سے متضاد دعوے سامنے آئے۔
پشاور کے اندرونِ شہر کا ایک منظر
تصویر: franek2 / Wikimedia Commons / CC BY-SA 3.0

پشاور / اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ جمعرات کو پانچویں روز میں داخل ہوا اور خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ شام کو پشاور پہنچ گیا۔ ڈان کے مطابق مارچ کا مقصد جیل میں قید پارٹی کے بانی عمران خان کی رہائی کا مطالبہ ہے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمن کے ذریعے حکومتی پیشکش پہنچنے کی خبروں پر پی ٹی آئی نے ہنگامی اجلاس بلایا، تاہم دونوں جانب سے متضاد دعوے سامنے آئے۔

مارچ اب تک کہاں پہنچا

مارچ 4 اکتوبر کو لکی مروت سے شروع ہوا۔ یہ پہلے 27 ستمبر کو ہونا تھا مگر مذاکرات کی کوشش میں ملتوی ہوا اور بات چیت ناکام ہونے پر شروع کیا گیا۔ قافلہ کوہاٹ، متنی اور ضلع خیبر سے ہوتا ہوا جمعرات کو پشاور میں داخل ہوا۔ ڈان کے مطابق قافلہ شیڈول سے پیچھے تھا، راستے میں کئی تبدیلیاں ہوئیں اور آخری منزل اب تک واضح نہیں۔ ٹریبیون کے مطابق وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں؛ پی ٹی آئی کے مطابق مارچ 9 اکتوبر کو چارسدہ، 10 کو مردان اور 11 اکتوبر کو صوابی پہنچے گا، جس کے بعد قیادت اگلا فیصلہ کرے گی۔ وفاقی حکومت اسلام آباد میں احتجاج یا اجتماع کے خلاف پہلے ہی خبردار کر چکی ہے۔

موبائل سروس، اسکول اور عدالت

ڈان کے مطابق پشاور کے کچھ علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس معطل رہی؛ پی ٹی اے کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ یہ عارضی معطلی سیکیورٹی احتیاط کے طور پر اعلیٰ حکام کی ہدایت پر ہوئی۔ کچھ نجی اسکول بند رہے، جبکہ پرائیویٹ اسکولز ریگولیٹری اتھارٹی کا کہنا تھا کہ بندش کا کوئی حکم جاری نہیں ہوا۔

پشاور ہائیکورٹ نے وزیرِ اعلیٰ آفریدی سے توہینِ عدالت کی ایک درخواست پر جواب طلب کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رکنِ صوبائی اسمبلی ظاہر خان کی درخواست میں الزام ہے کہ وزیرِ اعلیٰ نے 4 اکتوبر کو سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کر کے عدالت کے 23 اکتوبر 2025 کے اس فیصلے کی خلاف ورزی کی جس میں احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے سرکاری وسائل کے استعمال سے روکا گیا تھا۔ عدالت نے نوٹس جاری کر کے سماعت ملتوی کر دی؛ ڈان کی رپورٹ میں اس الزام پر وزیرِ اعلیٰ کا مؤقف شامل نہیں۔

حکومتی پیشکش اور متضاد دعوے

24 نیوز ایچ ڈی کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے حکومتی وفد (رانا ثناء اللہ، ایاز صادق، طارق فضل چوہدری) سے ملاقات کے بعد پی ٹی آئی سے رابطہ کر کے حکومتی پیشکش پہنچائی۔ جیو کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ انہیں حکومت یا مولانا کی طرف سے حالیہ رابطہ موصول نہیں ہوا، اور بیرسٹر گوہر نے بھی مولانا سے رابطے کی تردید کی۔ جے یو آئی (ف) کے سینیٹر عطاء الحق درویش نے کہا کہ مولانا حکومت اور پی ٹی آئی مذاکرات کا حصہ نہیں تھے۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے وزیرِ اعظم کو رپورٹ پیش کی۔

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گی۔ بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے کبھی دہشت گردی کی حمایت نہیں کی مگر انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے؛ انہوں نے گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت کی اور کہا کہ پارٹی بامعنی مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہے۔ جمعہ کو آل پاکستان لائرز ایکشن کمیٹی نے مارچ اور اس کے مطالبات کی حمایت کا اعلان کیا۔

ذرائع: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، 24 نیوز ایچ ڈی، جیو نیوز، آئی این ایس

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔