بدھ، 28 اکتوبر 2026

پاکستان ڈیجیٹل اینڈ اے آئی کمپیکٹ پر دستخط کرنے والا پہلا ملک بننے کے لیے تیار، شزہ فاطمہ سیئول روانہ

وفاقی وزیر آئی ٹی عالمی بینک کی میزبانی میں ہونے والی گلوبل اے آئی اینڈ ڈیجیٹل سمٹ میں پاکستان کا ڈیجیٹل روڈ میپ پیش کریں گی، گوگل اور ورلڈ بینک کے نائب صدور سے ملاقاتیں شیڈول۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ (فائل تصویر نومبر 2025)
تصویر: Masato Kanda / Wikimedia Commons (CC BY 4.0)

اسلام آباد: پاکستان ”ڈیجیٹل اینڈ اے آئی کمپیکٹ“ پر دستخط کرنے والا پہلا ملک بننے جا رہا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ گلوبل اے آئی اینڈ ڈیجیٹل سمٹ 2026 میں شرکت کے لیے جنوبی کوریا روانہ ہو گئی ہیں، جہاں وہ پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔

عرب نیوز کے مطابق یہ سمٹ 19 سے 22 اکتوبر تک جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول میں منعقد ہو رہی ہے اور اس کی میزبانی عالمی بینک گروپ جنوبی کوریا کی وزارتِ سائنس و آئی سی ٹی اور وزارتِ خزانہ و معیشت کے اشتراک سے کر رہا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق سمٹ کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل تبدیلی کس طرح عملی ترقیاتی فوائد دے سکتی ہے، اور اس میں ذمہ دارانہ اور قابلِ اعتماد اے آئی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

اے پی پی کے مطابق شزہ فاطمہ خواجہ سمٹ کے اے آئی اینڈ ڈیجیٹل وزارتی اجلاس میں شرکت کریں گی جہاں پاکستان کی مصنوعی ذہانت سے متعلق ترجیحات اور ڈیجیٹل شمولیت پر بات ہوگی۔ وہ ڈیجیٹل اینڈ اے آئی کمپیکٹ سے متعلق ایک سیشن میں پاکستان کا مستقبل کا روڈ میپ بھی پیش کریں گی، جس میں ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ملک کی حکمتِ عملی بیان کی جائے گی۔

دورے کے دوران وفاقی وزیر کی گوگل کے ایک نائب صدر سے دوطرفہ ملاقات بھی شیڈول ہے جس میں باہمی دلچسپی کے امور زیرِ غور آئیں گے۔ وہ عالمی بینک کے ایک نائب صدر سے بھی ملاقات کریں گی جس میں تعاون کے مختلف شعبوں پر بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ وہ دنیا بھر میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل خدمات تک مساوی رسائی یقینی بنانے سے متعلق سیشنز میں بھی حصہ لیں گی۔

ابھی تک کمپیکٹ کی تفصیلی شرائط، دستخط کی تاریخ یا دیگر شریک ممالک کے بارے میں باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اس سلسلے میں مزید معلومات سمٹ کی کارروائی کے ساتھ سامنے آنے کی توقع ہے۔ اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اس کمپیکٹ پر دستخط کرنے والا پہلا ملک ہوگا، تاہم کمپیکٹ کی قانونی حیثیت اور اس کے تحت کیے جانے والے وعدوں کی وضاحت ابھی باقی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق قومی اے آئی پالیسی 2025 کے تحت حکومت 2030 تک مصنوعی ذہانت سے متعلق تین ملین ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔ اسی طرح مالی سال 2025-26 میں ملک کی آئی ٹی اور ٹیلی کام برآمدات کی ترسیلات ریکارڈ 1,200 ارب روپے یعنی تقریباً 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جسے حکومت شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی علامت قرار دیتی ہے۔

اس سمٹ میں شرکت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے معاشی اثرات پر بحث تیز ہو رہی ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق گزشتہ ہفتے بنکاک میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس میں بھی عالمی رہنماؤں نے اے آئی کے بڑے فوائد اور خطرات پر تبادلۂ خیال کیا تھا۔

ذرائع: اے پی پی، عرب نیوز، دی نیشن، ایکسپریس ٹریبیون

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔