جمعرات، 29 اکتوبر 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا دہشت گردوں سے لڑنے کو تیار نہیں تو پیپلز پارٹی تیار ہے: بلاول بھٹو

سانحہ کارساز کی برسی پر گفتگو میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے گورنر راج کی حمایت کا دفاع کیا اور دہشت گردی کے خلاف متفقہ پالیسی کی ضرورت پر زور دیا۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری (فائل تصویر 2024)
تصویر: Voice of America / Wikimedia Commons (Public domain)

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر صوبے کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وزیراعلیٰ دہشت گردوں سے لڑنے کے لیے تیار نہیں تو پیپلز پارٹی اس کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو سانحہ کارساز کی برسی کے موقع پر کارساز یادگار پر حاضری کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

بلاول بھٹو نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کیا اور کہا کہ ان کی جماعت نے سکیورٹی چیلنجز کے پیشِ نظر حکومت کے اس فیصلے کی حمایت کی تھی۔ واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے منظوری دی تھی، جبکہ پاکستان تحریک انصاف اس اقدام کی مخالفت کرتی آئی ہے اور حکومت کے اس دعوے کو مسترد کر چکی ہے کہ اس نے دہشت گردوں کی پشت پناہی کی۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کو ایک بار پھر ”خیبر سے خضدار تک“ دہشت گردی کا سامنا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے بے نظیر بھٹو کے عزم کی تکمیل کے لیے سوات اور خیبرپختونخوا کے دیگر علاقوں میں آپریشن کیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اب ان فیصلوں کے نتائج بھگت رہا ہے جن کے تحت ماضی میں جیلوں میں قید عسکریت پسندوں کو رہا کیا گیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے آخری عوامی خطاب میں خبردار کیا تھا کہ کچھ قوتیں نہیں چاہتیں کہ سوات پاکستان کا حصہ رہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کے واقعات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اور کارساز حملے کے شواہد بھی مٹا دیے گئے تھے۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے اور تمام سیاسی رہنماؤں کو دہشت گردوں کے خلاف دو ٹوک مؤقف اپنانا چاہیے۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئینی اور قانونی طریقے سے نئے صوبے بنانے کی حامی ہے، تاہم صدر آصف علی زرداری کی توثیق کے بغیر ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جہاں پہلے سے اتفاقِ رائے موجود ہے، جیسے گلگت بلتستان، وہاں نیا صوبہ کیوں نہیں بنایا جا رہا، اور کہا کہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی پیپلز پارٹی کے مؤقف سے آگاہ ہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی حکومت پر تنقید کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنما کو حکومتی پالیسیوں پر سوال اٹھانے کا حق ہے، لیکن انہیں دہشت گردی کی بھی واضح مذمت کرنی چاہیے، کیونکہ ان کی اپنی جماعت کے ارکان بھی دہشت گرد حملوں میں جان سے گئے ہیں۔ دوسری جانب ڈان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ انہوں نے اداروں کے بجائے پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، ڈان (پارلیمان کا مشترکہ اجلاس)، ڈان (مولانا فضل الرحمٰن کی وضاحت)

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔