بدھ، 28 اکتوبر 2026

وفاقی حکومت کا قرض اڑھائی سال میں 18 ہزار ارب روپے سے زائد بڑھ گیا، مجموعی حجم 83 ہزار ارب کے قریب

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2026 تک وفاقی قرض 82 ہزار 953 ارب روپے تک پہنچ گیا، اضافے کا بڑا حصہ مقامی قرضوں سے آیا۔
کراچی میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی عمارت (فائل تصویر)
تصویر: MariyamAftab / Wikimedia Commons (CC BY-SA 4.0)

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ حکومت کے تقریباً اڑھائی سالہ دور میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18 ہزار 143 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ انگریزی اخبار دی نیشن کی اتوار کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اگست 2026 کے اختتام تک وفاقی قرض کا مجموعی حجم 82 ہزار 953 ارب روپے تک پہنچ گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق فروری 2024 میں، جو نگران حکومت کا آخری مہینہ تھا، وفاقی قرض 64 ہزار 810 ارب روپے تھا۔ مارچ 2024 سے اگست 2026 تک کے عرصے میں ہونے والا اضافہ اوسطاً تقریباً بیس ارب روپے یومیہ بنتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اضافے کا بڑا حصہ مقامی قرضوں کی صورت میں آیا۔ مقامی قرض فروری 2024 میں 42 ہزار 675 ارب روپے تھا جو اگست 2026 میں بڑھ کر 58 ہزار 757 ارب روپے ہو گیا، یعنی اس میں تقریباً 16 ہزار 82 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں اضافے کی وجوہات کا تجزیہ شامل نہیں۔

بیرونی قرض میں اضافہ نسبتاً کم رہا۔ اعداد و شمار کے مطابق فروری 2024 میں بیرونی قرض 22 ہزار 134 ارب روپے تھا جو اگست 2026 میں 24 ہزار 196 ارب روپے ہو گیا، یعنی تقریباً 2 ہزار 62 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ روپے میں تبدیلی کے لیے فروری 2024 میں ڈالر کی شرح 279.22 روپے اور اگست 2026 میں 277.40 روپے استعمال کی گئی، یعنی اس عرصے میں شرحِ مبادلہ تقریباً مستحکم رہی۔

رپورٹ میں ماضی کی حکومتوں سے موازنہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ دی نیشن کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے پہلے دور یعنی اپریل 2022 سے جولائی 2023 تک کے سولہ ماہ میں وفاقی قرض 18 ہزار 764 ارب روپے بڑھا تھا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے تقریباً چار سالہ دور میں یہ اضافہ 18 ہزار 323 ارب روپے رہا تھا۔ اخبار نے شہباز شریف کے دونوں ادوار میں مجموعی اضافے کو تاریخی قرار دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کل سرکاری قرض، جس میں وفاقی قرض کے علاوہ دیگر واجبات بھی شامل ہوتی ہیں، رواں سال سالانہ بنیاد پر 7.7 فیصد اضافے کے ساتھ 86 ہزار 715 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو ایک سال پہلے تقریباً 80 ہزار 500 ارب روپے تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلسل اضافے کا رجحان برقرار ہے۔

طویل مدتی تناظر میں دیکھا جائے تو رپورٹ کے مطابق جولائی 2018 میں وفاقی قرض 24 ہزار 690 ارب روپے تھا، یعنی گزشتہ تقریباً آٹھ برسوں میں یہ تین گنا سے زیادہ ہو چکا ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار اسٹیٹ بینک کی دستاویزات اور سرکاری ڈیٹا پر مبنی بتائے گئے ہیں۔

رپورٹ میں حکومت یا وزارت خزانہ کا کوئی مؤقف شامل نہیں۔ واضح رہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب حالیہ دنوں میں کہہ چکے ہیں کہ خلیجی ممالک میں توانائی تنصیبات پر حملے پاکستان کے معاشی منظرنامے کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک کے گورنر نے معیشت کو بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں پہلے سے زیادہ مضبوط قرار دیا ہے۔

ذرائع: دی نیشن، ایکسپریس ٹریبیون، ڈان

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔