جمعرات، 29 اکتوبر 2026

پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی منظوری دے دی، اپوزیشن کا ایوان میں احتجاج

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس نے آرٹیکل 234 کے تحت خیبرپختونخوا میں نافذ گورنر راج کی توثیق کر دی؛ اپوزیشن ارکان نے پلے کارڈز اٹھا کر احتجاج کیا۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کے ایوان کی فائل تصویر (علامتی)
تصویر: Voice of America / Wikimedia Commons (Public domain)

اسلام آباد: پارلیمان کے مشترکہ اجلاس نے جمعرات کو ایک قرارداد کے ذریعے خیبرپختونخوا میں نافذ گورنر راج کی منظوری دے دی۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کا یہ مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں ہوا، جسے صدر آصف علی زرداری نے طلب کیا تھا۔ اس سے ایک روز قبل دونوں ایوانوں نے الگ الگ اجلاسوں میں صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کی قراردادیں منظور کی تھیں۔

ڈان کے مطابق وزیرِ پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے گورنر راج کے اعلامیے سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کی، جس پر گنتی کے بعد 240 ارکان نے حمایت اور 46 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ بعض دیگر میڈیا اداروں نے ووٹنگ کے نتائج 214 کے مقابلے میں 56 بتائے ہیں، جو بعض رپورٹس کے مطابق اجلاس کے قواعد معطل کرنے کی تحریک پر ہونے والی رائے شماری سے متعلق تھے۔

وزیرِ پارلیمانی امور نے اجلاس کے آغاز میں پارلیمان (مشترکہ اجلاس) کے قواعد 1973 کے تحت نوٹس کی مدت سے متعلق بعض ذیلی قواعد معطل کرنے کی تحریک پیش کی، جس کے بعد دو قراردادیں لائی گئیں۔ ایک قرارداد آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے اعلامیے اور دوسری آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج سے متعلق تھی۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے دوران صوبائی امور چلانے کے لیے خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔

آئین کے مطابق اگر صدر ازخود ایمرجنسی نافذ کریں تو اس کا اعلامیہ دس روز کے اندر دونوں ایوانوں کے سامنے منظوری کے لیے رکھنا لازم ہے، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا اعلامیہ مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھا جاتا ہے اور دو ماہ بعد ختم ہو جاتا ہے، الا یہ کہ مشترکہ اجلاس اس میں توسیع کی منظوری دے۔ ڈان کے مطابق ایسا انتظام کسی صورت چھ ماہ سے زیادہ برقرار نہیں رہ سکتا۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان ہاتھوں میں پلے کارڈز لے کر ایوان میں آئے جن پر ایمرجنسی نامنظور جیسے نعرے درج تھے۔ اسپیکر کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے ارکان ثناء اللہ مستی خیل اور داور کنڈی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے تاکہ وہ کارروائی میں شریک ہو سکیں۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق اسپیکر ایاز صادق نے ایک بار پھر تحریک انصاف کو مذاکرات کی پیشکش کی۔

صدرِ مملکت نے گیارہ اکتوبر کو وزیراعظم کی ایڈوائس پر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا اعلامیہ جاری کیا تھا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام صوبے میں سیکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت کے عدم تعاون کے باعث ناگزیر ہو گیا تھا۔ اعلان کردہ انتظام کے تحت گورنر فیصل کریم کنڈی صوبائی انتظامی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں اور ان کی معاونت کے لیے گیارہ رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف اس اقدام کو صوبے کے عوامی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کے منافی قرار دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے اسے سیکیورٹی حل کے لبادے میں سیاسی بحران قرار دیا تھا، جبکہ وفاقی وزرا اسے آئینی دائرے میں اٹھایا گیا قدم کہتے ہیں۔ ڈان کے مطابق اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے کہا ہے کہ عمران خان سے ملاقات کرانے اور ان کی صحت سے متعلق تفصیلات فراہم کیے جانے تک حکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔

ذرائع: ڈان (Dawn)، نکتہ (Nukta)، ڈیلی پاکستان، 24 نیوز

متعلقہ خبریں

اوپر تک سکرول کریں۔