پشاور: صوبائی دارالحکومت کے علاقے آفریدی آباد میں جمعرات کی صبح ایک نجی اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 33 افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں 32 طلبہ اور ایک خاتون استاد شامل ہیں۔ ڈان نے تازہ ترین اپ ڈیٹ میں بتایا کہ جاں بحق ہونے والے طلبہ کی عمریں سات سے سولہ برس کے درمیان تھیں۔ ہلاکتوں کی تعداد دن بھر بڑھتی رہی، جبکہ ابتدا میں چار اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے ڈان کو اس سے پہلے بتایا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد 21 سے بڑھ کر 28 ہو گئی ہے جن میں 27 طلبہ اور ایک استانی شامل ہیں، جبکہ 19 زخمی زیرِ علاج ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق زخمیوں کی تعداد تیس سے زائد ہے۔
ڈپٹی کمشنر پشاور آفاق وزیر نے بتایا کہ الخیر اسکول کی چھت گری جس کے ملبے تلے طلبہ دب گئے۔ ان کے دفتر کے بیان کے مطابق حادثے کے وقت بچے اپنی کلاسوں میں موجود تھے۔ بعد ازاں جیو نیوز سے گفتگو میں انہوں نے تصدیق کی کہ امدادی کارروائی مکمل ہو چکی ہے، تمام ملبہ ہٹا دیا گیا ہے اور جائے حادثہ پر اب کوئی زخمی بچہ موجود نہیں۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان بلال احمد فیضی نے اے ایف پی کو بتایا کہ امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو معلوم ہوا کہ ایک چھت دوسری چھت پر آ گری تھی، جس سے نیچے والا کلاس روم بیٹھ گیا اور بچے اندر پھنس گئے۔ انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید نے سی سی پی او پشاور کو امدادی کارروائی کی خود نگرانی کرنے اور ٹریفک پولیس کو ایمبولینسوں کے لیے گرین کوریڈور بنانے کی ہدایت کی۔
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ طلب کی اور حکام کو چھت گرنے کی وجوہات کا تعین کرنے کی ہدایت کی۔ صدر آصف علی زرداری نے جامع تحقیقات اور تمام تعلیمی اداروں کی عمارتوں میں حفاظتی معیار یقینی بنانے پر زور دیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے اور امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی، جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے مطابق وزیراعظم نے واقعے کا سخت نوٹس لیا ہے۔
پاکستان میں عمارتوں اور چھتوں کے گرنے کے واقعات اکثر پیش آتے ہیں جن کی وجہ عموماً ناقص تعمیراتی معیار اور غیر معیاری سامان بتائی جاتی ہے۔ رواں سال جون میں لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ اس سے پہلے ڈیرہ غازی خان میں ایک نجی اسکول کی کلاس کی چھت گرنے سے چار بچے جاں بحق اور بیس افراد زخمی ہوئے تھے۔ جولائی میں عمرکوٹ کے قریب ایک سرکاری پرائمری اسکول کی دیوار گرنے سے تین بچیاں جان سے گئی تھیں۔
ذرائع: ڈان (Dawn)، اے ایف پی بذریعہ مکاؤ بزنس