وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں "کوئی شورش” موجود نہیں۔ ڈان کے مطابق انہوں نے یہ بات جمعرات کو 21ویں نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل صورتحال یہ ہے کہ کچھ گروہ "شناخت کے نام پر” علیحدگی پسند نظریات کو فروغ دے رہے ہیں۔
ترقی کے فرق کا مؤقف مسترد
وزیر اعلیٰ نے اس نظریے کو مسترد کیا کہ غیر مساوی ترقی صوبے میں بدامنی کی وجہ ہے۔ ان کے بقول: "دنیا میں کہیں بھی لوگ ترقی کے لیے ہتھیار نہیں اٹھاتے اور نہ ہی بے گناہوں کا خون بہاتے ہیں۔” انہوں نے کہا کہ علاقائی فرق پاکستان کے دیگر حصوں اور دنیا بھر میں بھی موجود ہے لیکن وہاں مسلح تنازع جنم نہیں لیتا۔
سرفراز بگٹی نے بلوچ نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اس "بے مقصد جنگ” کو چھوڑ کر تعلیم اور ترقی پر توجہ دیں۔
اسی موقع پر صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے افغانستان پر زور دیا کہ وہ اپنی طاقت کے بارے میں "غلط فہمیاں” ترک کرے اور پاکستان کے ساتھ پرامن تعلقات رکھے۔